شاعری ہب / غزل / خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں

خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں

Khamoshi se bhi Toofaan Uth-Te Hain Danish

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں اگر سمجھو تو بات ہے

کہ ضمیر کی صدا کو خریدا نہیں جا سکتا سدا!

ہم نے تو محرومیوں کے بیچ بھی جلائے ہیں چراغ

پر حق کے راستے سے قدم ہٹایا نہیں جا سکتا سدا!

دانشؔ غیرت و خودداری کا یہ سفر سدا رہے گا

جسے تاریخ کے اوراق سے مٹایا نہیں جا سکتا سدا!

Khamoshi Se Bhi Toofaan Uth-te Hain Agar Samjho To Baat Hai

Ke Zameer Ki Sada Ko Khareeda Nahin Ja Sakta Sada!

Hum Ne To Mahroomiyon Ke Beech Bhi Jalaaye Hain Chiraagh

Par Haq Ke Raaste Se Qadam Hataya Nahin Ja Sakta Sada!

Danish Ghairat-o-Khuddaari Ka Yeh Safar Sada Rahe Ga

Jise Tareekh Ke Auraaq Se Mitaaya Nahin Ja Sakta Sada!

غزل Urdu
Comment
ن م دانش
تعارفِ شاعر

ن م دانش

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1958 — حیات (نیویارک، امریکہ) 📍 لیاری، کراچی / نیویارک، پاکستان / امریکہ

نثار محمد المعروف ن م دانشؔ (پیدائش: 1958ء، لیاری، کراچی) معاصر اردو شاعری کے سب سے منفرد، بے باک اور توانا انقلابی شاعر مانے جاتے ہیں۔ آپ کا تعلق کراچی کے تاریخی علاقے لیاری میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے