ن م دانش

Noon Meem Danish

Classical
1958-حیات (نیویارک، امریکہ) لیاری، کراچی / نیویارک, پاکستان / امریکہ
نثار محمد المعروف ن م دانشؔ (پیدائش: 1958ء، لیاری، کراچی) معاصر اردو شاعری کے سب سے منفرد، بے باک اور توانا انقلابی شاعر مانے جاتے ہیں۔ آپ کا تعلق کراچی کے تاریخی علاقے لیاری میں آباد افریقی نژاد شیدی برادری سے ہے۔ ن م دانش نے اپنے کلام میں رنگ و نسل، نسلی امتیاز، شناخت کے بحران، تارکینِ وطن کے دکھوں اور نچلے طبقے کے مسائل کو انتہائی پروقار کلاسیکی زبان، طنزیہ بانکپن اور جدید فکری آہنگ کے ساتھ پیش کیا۔ ان کا شعری مجموعہ 'چراغِ روزگار' (1997ء) اور شاہکار نظم 'بچوں نے سلیٹوں پہ لکھا ہے' اردو دنیا میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ طویل عرصے سے نیویارک (امریکہ) میں مقیم ہیں جہاں نیویارک یونیورسٹی میں اردو اور جنوبی ایشیائی زبانوں کے پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں اگر سمجھو کہ ضمیر کی آواز کو کبھی خریدا نہیں جا سکتا
Khamoshi Se Bhi Toofaan Uth-te Hain Agar Samjho Ke Zameer Ki Awaaz Ko Kabhi Khareeda Nahin Ja Sakta
تفصیل دیکھیں »
صبحِ نو کا سویرا ضرور طلوع ہو گا ایک دن جہاں ہر انسان کو برابری کا حق ملے گا سدا
Subh-e-Nau Ka Sawera Zaroor Tulu Hoga Ek Din Jahan Har Insaan Ko Baraabari Ka Haq Mile Ga Sada
تفصیل دیکھیں »
ہم نے ہر دور میں رنگ و نسل کے بت توڑے ہیں دانشؔ اور انسانیت کے وقار کو سدا سر بلند رکھا ہے
Hum Ne Har Daur Mein Rang-o-Nasl Ke But Tode Hain Danish Aur Insaaniyat Ke Waqaar Ko Sada Sar-Buland Rakha Hai
تفصیل دیکھیں »
لیاری کی گلیوں نے سکھائی ہے خودداری ہمیں جہاں محرومیوں میں بھی خواب سجے رہتے ہیں سدا
Lyari Ki Galiyon Ne Sikhaayi Hai Khuddaari Humein Jahan Mahroomiyon Mein Bhi Khwaab Saje Rahte Hain Sada
تفصیل دیکھیں »
شبِ ہجرت کا درد وہی جانتا ہے دانشؔ جس نے رزق کی خاطر اپنا وطن چھوڑا ہو سدا
Shab-e-Hijrat Ka Dard Wahi Jaanta Hai Danish Jis Ne Rizq Ki Khaatir Apna Watan Chhoda Ho Sada
تفصیل دیکھیں »
یہ زندگی جو ہم نے جی لی ہے سچائی کے ساتھ جس پر لکھی ہے انسانی آزادی کی داستان
Yeh Zindagi Jo Hum Ne Jeeli Hai Sacchayi Ke Saath Jis Par Likhi Hai Insaani Aazaadi Ki Daastaan
تفصیل دیکھیں »
بچوں نے سلیٹوں پہ لکھا ہے کہ انسان کا کوئی رنگ نہیں کہ خون کی سرخی ہی محبت کی اصل پہچان ہے
Bachon Ne Sleto'n Pe Likha Hai Ke Insaan Ka Koi Rang Nahin Ke Khoon Ki Surkhi Hi Mohabbat Ki Asal Pehchaan Hai
تفصیل دیکھیں »
چراغِ روزگار جلائے رکھا ہم نے پردیس میں بھی تا کہ اپنے وطن کے آنگن میں روشنی رہے سدا
Chiraagh-e-Rozgaar Jalaaye Rakha Hum Ne Pardes Mein Bhi Ta Ke Apne Watan Ke Aangan Mein Roshni Rahe Sada
تفصیل دیکھیں »