شاعری ہب / غزل / کہاں آنسوؤں کی یہ نوبت پہنچی

کہاں آنسوؤں کی یہ نوبت پہنچی

Kahan Aansuon ki Yeh Nobat Pahunchi Ghazal Dagh

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

کہاں آنسوؤں کی یہ نوبت پہنچی

ہماری وفا کی یہ قیمت پہنچی

ہم نے تو چاہا تھا دل سے ان کو

پر دل تک فقط ان کی حسرت پہنچی

داغؔ عشق میں جو لٹے ہیں وہ جانے

کس مقام پہ اب یہ محبت پہنچی

Kahan Aansuon Ki Yeh Nobat Pahunchi

Hamari Wafa Ki Yeh Qeemat Pahunchi

Hum Ne To Chaaha Tha Dil Se Un Ko

Par Dil Tak Faqat Un Ki Hasrat Pahunchi

غزل
Comment
نواب مرزا داغ دہلوی
تعارفِ شاعر

نواب مرزا داغ دہلوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 25 مئی 1831 — 15 فروری 1905 📍

نواب مرزا خاں داغ دہلوی (25 مئی 1831ء – 15 فروری 1905ء) اردو زبان کے سب سے بڑے زبان دان، فصیح اللسان اور شوخیِ گفتار و محاورہ بندی کے بے تاج بادشاہ تسلیم کیے جاتے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے