شاعری ہب / غزل / کبھی تو آسماں سے ماہ و سال اتریں گے

کبھی تو آسماں سے ماہ و سال اتریں گے

Kabhi to Aasmaan se Maah-o-Saal Utrenge

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

کبھی تو آسماں سے ماہ و سال اتریں گے

کسی تو شب مرے گھر بھی غزال اتریں گے

وہ جن کے ہاتھ میں تھا روشنی کا اک پرچم

وہ خاک چوم کے اب بے مثال اتریں گے

محسنؔ ستم کی ہر اک رات کٹ ہی جائے گی

سحر کے چاند لیے یہ ہلال اتریں گے

Kabhi To Aasmaan Se Maah-o-Saal Utrenge

Kisi To Shab Mere Ghar Bhi Ghazaal Utrenge

Woh Jin Ke Haath Mein Tha Roshni Ka Ik Parcham

Woh Khaak Choom Ke Ab Be-Misaal Utrenge

غزل
Comment
محسن نقوی
تعارفِ شاعر

محسن نقوی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 5 مئی 1947 — 15 جنوری 1996 📍 ڈیرہ غازی خان / لاہور، پاکستان

سید غلام عباس المعروف محسن نقوی (5 مئی 1947ء – 15 جنوری 1996ء) پاکستان کے صفِ اول کے عظیم، بے حد مقبول اور دلوں کو چھو لینے والے قادر الکلام شاعر تھے۔ آپ ڈیرہ غازی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے