شاعری ہب / غزل / جو طلب گارِ تمنا ہوا کرتا تھا کبھی

جو طلب گارِ تمنا ہوا کرتا تھا کبھی

Jo Talba-Gaar-e-Tamanna-Hua-Karta-Tha-Kabhi Ghazal Amjad

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

جو طلب گارِ تمنا ہوا کرتا تھا کبھی

وہ بھی اک خوابِ پریشاں ہوا کرتا تھا کبھی

اب تو ملتے ہیں تو آنکھوں میں حیا بھی نہیں ہوتی

جس کے چہرے پہ چراغاں ہوا کرتا تھا کبھی

امجدؔ اس بزم میں سب رنگ بدل جاتے ہیں

جو دل کا بڑا مہرباں ہوا کرتا تھا کبھی

Jo Talba-Gaar-e-Tamanna Hua Karta Tha Kabhi

Woh Bhi Ik Khwab-e-Pareshan Hua Karta Tha Kabhi

Ab To Milte Hain To Aankhon Mein Haya Bhi Nahin Hoti

Jis Ke Chehre Pe Chiraaghan Hua Karta Tha Kabhi

غزل
Comment
امجد اسلام امجد
تعارفِ شاعر

امجد اسلام امجد

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 4 اگست 1944 — 10 فروری 2023 📍 لاہور، پاکستان

امجد اسلام امجد (4 اگست 1944ء – 10 فروری 2023ء) عصرِ حاضر کے انتہائی مقبول، صاحبِ طرز اور دلوں پر راج کرنے والے عظیم اردو شاعر، ڈرامہ نگار اور کالم نگار تھے۔ آپ لاہور میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے