جو طلب گارِ تمنا ہوا کرتا تھا کبھی
Jo Talba-Gaar-e-Tamanna-Hua-Karta-Tha-Kabhi Ghazal Amjad
جو طلب گارِ تمنا ہوا کرتا تھا کبھی
وہ بھی اک خوابِ پریشاں ہوا کرتا تھا کبھی
اب تو ملتے ہیں تو آنکھوں میں حیا بھی نہیں ہوتی
جس کے چہرے پہ چراغاں ہوا کرتا تھا کبھی
امجدؔ اس بزم میں سب رنگ بدل جاتے ہیں
جو دل کا بڑا مہرباں ہوا کرتا تھا کبھی
Jo Talba-Gaar-e-Tamanna Hua Karta Tha Kabhi
Woh Bhi Ik Khwab-e-Pareshan Hua Karta Tha Kabhi
Ab To Milte Hain To Aankhon Mein Haya Bhi Nahin Hoti
Jis Ke Chehre Pe Chiraaghan Hua Karta Tha Kabhi
غزل
تعارفِ شاعر
امجد اسلام امجد
امجد اسلام امجد (4 اگست 1944ء – 10 فروری 2023ء) عصرِ حاضر کے انتہائی مقبول، صاحبِ طرز اور دلوں پر راج کرنے والے عظیم اردو شاعر، ڈرامہ نگار اور کالم نگار تھے۔ آپ لاہور میں...
