شاعری ہب / نظم / جمالِ یار اور نورِ عرفان

جمالِ یار اور نورِ عرفان

Jamaal-e-Yaar aur Noor-e-Irfaan Hasrat

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

جمالِ یار کے جلوؤں سے دل منور ہے

اور معرفت کا ہر اک جام لبریز و مطہر ہے!

ہم نے تو دیکھی ہے بندگی کی وہ معراج

جہاں فقر ہی سب سے بڑا تاج و گوہر ہے!

حسرتؔ عشقِ حقیقی ہی اصل حیات ہے

جس سے دونوں جہاں کا یہ سفر معتبر ہے!

Jamaal-e-Yaar Ke Jalwon Se Dil Munawwar Hai

Aur Marifat Ka Har Ik Jaam Labrez-o-Mutahhar Hai!

Hum Ne To Dekhi Hai Bandagi Ki Woh Mehraaj

Jahan Faqr Hi Sab Se Bada Taaj-o-Gauhar Hai!

نظم Urdu
Comment
مولانا حسرت موہانی
تعارفِ شاعر

مولانا حسرت موہانی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1 جنوری 1875 — 13 مئی 1951 📍 موہان / علی گڑھ / کانپور / لکھنؤ، ہندوستان

سید فضل الحسن المتخلص بہ حسرتؔ موہانی (1 جنوری 1875ء – 13 مئی 1951ء) اردو غزل کی جدید تاریخ کے سب سے جلیل القدر استاد، مجاہدِ آزادی اور 'رئیس المتغزلین' کے لقب سے ملقب عظیم...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے