شاعری ہب / غزل / ہم سے بدل کر راستے چلے گئے

ہم سے بدل کر راستے چلے گئے

Hum se Badalkar Raaste Chale Gaye Qateel Ghazal

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہم سے بدل کر راستے چلے گئے وہ بے وفا

جن کے لیے ہم نے اپنا سارا جہاں لٹایا تھا!

ہم نے تو دل کو اک آئینہ بنا رکھا تھا

جس میں ان کی یادوں کا دیپ جلایا تھا!

قتیلؔ صبر کا یہ گھونٹ پی کر جیتے رہیں گے ہم

جس نے وفا کے وقار کو بلند بنایا تھا!

Hum Se Badalkar Raaste Chale Gaye Woh Be-Wafa

Jin Ke Liye Hum Ne Apna Saara Jahan Lutaya Tha!

Hum Ne To Dil Ko Ik Aayina Bana Rakha Tha

Jis Mein Un Ki Yaadon Ka Deep Jalaya Tha!

غزل Urdu
Comment
قتیل شفائی
تعارفِ شاعر

قتیل شفائی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 دسمبر 1919 — 11 جولائی 2001 📍 ہری پور / لاہور، پاکستان

محمد اورنگزیب خان المعروف قتیلؔ شفائی (24 دسمبر 1919ء – 11 جولائی 2001ء) اردو غزل اور فلمی نغمہ نگاری کی تاریخ کے سب سے مقبول، سحر انگیز ترنم کے مالک اور نغمگی کے بے تاج...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے