شاعری ہب / غزل / جب بھی چاہو نیا اک ستم کر ڈالو

جب بھی چاہو نیا اک ستم کر ڈالو

Jab bhi Chaho Naya Ik Sitam Kar Dalo Ghazal Qateel

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

جب بھی چاہو نیا اک ستم کر ڈالو قتیلؔ

ہم نے ہر ستم کو محبت کا انعام سمجھا ہے!

ہم نے تو لٹائی ہے نغمگی تری دید کے واسطے

اور تیرے ہر اک بول کو الہام سمجھا ہے!

قتیلؔ عشق کی بزم میں سر جھکا کے چلتے ہیں ہم

جس نے دل کے ہر درد کو آرام سمجھا ہے!

Jab Bhi Chaho Naya Ik Sitam Kar Dalo Qateel

Hum Ne Har Sitam Ko Mohabbat Ka In'aam Samjha Hai!

Hum Ne To Lutayi Hai Naghmagi Teri Deed Ke Waaste

Aur Tere Har Ik Bol Ko Ilhaam Samjha Hai!

غزل Urdu
Comment
قتیل شفائی
تعارفِ شاعر

قتیل شفائی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 دسمبر 1919 — 11 جولائی 2001 📍 ہری پور / لاہور، پاکستان

محمد اورنگزیب خان المعروف قتیلؔ شفائی (24 دسمبر 1919ء – 11 جولائی 2001ء) اردو غزل اور فلمی نغمہ نگاری کی تاریخ کے سب سے مقبول، سحر انگیز ترنم کے مالک اور نغمگی کے بے تاج...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے