شاعری ہب / غزل / دنیا میں جو بھی آیا مسافر ہی تو تھا

دنیا میں جو بھی آیا مسافر ہی تو تھا

Duniya mein Jo bhi Aaya Musafir hi to Tha Qateel

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دنیا میں جو بھی آیا مسافر ہی تو تھا قتیلؔ

بس نیکی اور وفا کا ہی نقش چھوڑتے چلو!

نفرتوں کے اندھیروں کو مٹاؤ سدا

اور محبت کے چراغ کو ہر سو جلاتے چلو!

قتیلؔ انسانیت کا یہ درس سدا یاد رکھنا

جس سے دونوں جہاں کا یہ سفر سنوارتے چلو!

Duniya Mein Jo Bhi Aaya Musafir Hi To Tha Qateel

Bas Neki Aur Wafa Ka Hi Naqsh Chhodte Chalo!

Nafraton Ke Andheron Ko Mitaao Sada

Aur Mohabbat Ke Chiraagh Ko Har Su Jalaate Chalo!

غزل Urdu
Comment
قتیل شفائی
تعارفِ شاعر

قتیل شفائی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 دسمبر 1919 — 11 جولائی 2001 📍 ہری پور / لاہور، پاکستان

محمد اورنگزیب خان المعروف قتیلؔ شفائی (24 دسمبر 1919ء – 11 جولائی 2001ء) اردو غزل اور فلمی نغمہ نگاری کی تاریخ کے سب سے مقبول، سحر انگیز ترنم کے مالک اور نغمگی کے بے تاج...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے