شاعری ہب / غزل / ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے

ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے

Hum Karein Baat Dalilon se to Radd Hoti Hai

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے

اس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہے

سانس لیتے ہوئے انساں بھی ہیں لاشوں کی طرح

اب دھڑکتے ہوئے دل کی بھی لحد ہوتی ہے

جس کی گردن میں ہے پھندا وہی انسان بڑا

سولیوں سے یہاں پیمائش قد ہوتی ہے

شعبدہ گر بھی پہنتے ہیں خطیبوں کا لباس

بولتا جہل ہے بد نام خرد ہوتی ہے

کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجاز سخن

ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے

Hum karein baat dalilon se to radd hoti hai

Us ke hoton ki khamoshi bhi sanad hoti hai

Saans lete hue insan bhi hain lashon ki tarah

Ab dharakte hue dil ki bhi lahad hoti hai

Jis ki gardan mein hai phanda wohi insan bara

Suliyon se yahan paimaish-e-qad hoti hai

Sha'wada-gar bhi pehnte hain khatibon ka libas

Bolta jahl hai badnaam khirad hoti hai

Kuch na kehne se bhi chhin jata hai ejaz-e-sukhan

Zulm sahne se bhi zalim ki madad hoti hai

غزل Urdu
Comment
مظفر وارثی
تعارفِ شاعر

مظفر وارثی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 1933ء – 2011ء 📍 میرٹھ، برطانوی ہندوستان / لاہور

محمد مظفر الدین صدیقی المعروف 'مظفر وارثی' (23 دسمبر 1933ء – 28 جنوری 2011ء، میرٹھ / لاہور) اردو زبان کے عظیم ترین نعت گو، حمد نگار اور لازوال نغمہ نگار تھے۔ انہوں نے دربارِ وارثیہ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے