شاعری ہب / نظم / ہوا کے رخ پہ رکھے ہوئے چراغ

ہوا کے رخ پہ رکھے ہوئے چراغ

Hawa ke Rukh pe Rakhe Chiraagh Nazm Noshi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہم وہ چراغ ہیں جو تیز ہوا کے رخ پہ رکھے ہیں

پھر بھی روشنی کا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں!

زمانے کی آندھیاں ہمیں بجھا نہیں سکتیں

کیونکہ ہم نے دل میں وفا کے شعلے جلائے ہوئے ہیں!

نوشیؔ سچائی کی یہ لو کبھی بجھ نہ سکے گی

جسے ہم نے اپنے آنسوؤں سے بچائے ہوئے ہیں!

Hum Woh Chiraagh Hain Jo Tez Hawa Ke Rukh Pe Rakhe Hain

Phir Bhi Roshni Ka Safar Jaari Rakhe Hue Hain!

Zamane Ki Aandhiyan Humein Bujha Nahin Sakti

Kyunke Hum Ne Dil Mein Wafa Ke Shole Jalaye Hue Hain!

نظم Urdu
Comment
نوشی گیلانی
تعارفِ شاعر

نوشی گیلانی

🏛️ معاصر دور ⏳ 14 مارچ 1964 — -- 📍

نشاط گیلانی المعروف نوشیؔ گیلانی (پیدائش: 14 مارچ 1964ء، بہاولپور) پروین شاکر کے بعد اردو ادب کی سب سے مقبول، نازک خیال، حساس اور دردمند نسائی آواز ہیں۔ آپ نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے اردو...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے