شاعری ہب / نظم / محبتیں جب شمار کرنا (شاہکار نظم)

محبتیں جب شمار کرنا (شاہکار نظم)

Mohabbatein Jab Shumaar Karna Nazm Noshi Gilani

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

محبتیں جب شمار کرنا تو پہلی بارش میں بھیگنے کا حساب رکھنا!

اور تری جدائی کے بعد میں نے جو آنسوؤں کے دیے جلائے ان کا عذاب رکھنا!

وہ جو تیرے لمس کی خوشبو مری روح میں رچ بس گئی تھی

اسے زندگی کے گلاب کا سچا نصاب رکھنا!

نوشیؔ محبت حساب کتاب کی محتاج نہیں ہوتی

یہ تو وہ دریا ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں ہوتا!

Mohabbatein Jab Shumaar Karna To Pehli Baarish Mein Bheegne Ka Hisaab Rakhna!

Aur Teri Judayi Ke Baad Main Ne Jo Aansuwon Ke Diye Jalaye Un Ka Azaab Rakhna!

Woh Jo Tere Lams Ki Khushboo Meri Rooh Mein Rach Bas Gayi Thi

Use Zindagi Ke Gulaab Ka Saccha Nisaab Rakhna!

نظم Urdu
Comment
نوشی گیلانی
تعارفِ شاعر

نوشی گیلانی

🏛️ معاصر دور ⏳ 14 مارچ 1964 — -- 📍

نشاط گیلانی المعروف نوشیؔ گیلانی (پیدائش: 14 مارچ 1964ء، بہاولپور) پروین شاکر کے بعد اردو ادب کی سب سے مقبول، نازک خیال، حساس اور دردمند نسائی آواز ہیں۔ آپ نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے اردو...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے