شاعری ہب / غزل / ہر چند کہ دنیائے فنا مہمان ہے

ہر چند کہ دنیائے فنا مہمان ہے

Har Chand ke Dunya-e-Fana Mehmaan Hai Anis Ghazal

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہر چند کہ دنیائے فنا مہمان ہے سدا

پر سچے عاشقوں کا وقار لازوال ہے سدا!

ہم نے تو دنیا کی دولت کو ٹھکرا دیا

جہاں فقر و قناعت ہی کمال ہے سدا!

انیسؔ نیکی کا ہی چراغ جلاتے چلو

جو دونوں جہاں میں بے مثال ہے سدا!

Har Chand Ke Dunya-e-Fana Mehmaan Hai Sada

Par Sacche Aashiqon Ka Waqaar Laa-Zawaal Hai Sada!

Hum Ne To Duniya Ki Daulat Ko Thukra Diya

Jahan Faqr-o-Qanaat Hi Kamaal Hai Sada!

غزل Urdu
Comment
میر ببر علی انیس
تعارفِ شاعر

میر ببر علی انیس

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1803 — 10 دسمبر 1874 📍 فیض آباد / لکھنؤ، ہندوستان

میر ببر علی انیسؔ (1803ء – 10 دسمبر 1874ء) اردو زبان و ادب کی تاریخ کے سب سے بے مثال مرثیہ نگار، صاحبِ فصاحت و بلاغت اور اردو شاعری کے شیکسپیئر مانے جاتے ہیں۔ آپ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے