شاعری ہب / غزل / دل نے ہزاروں صدمے اٹھائے

دل نے ہزاروں صدمے اٹھائے

Dil Ne Hazaaron Sadme Uthaaye Ghazal Anis

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دل نے ہزاروں صدمے اٹھائے راہِ وفا میں

پر لب پہ شکوہ نہ لائے ہم اس رضا میں!

ہم نے تو لٹائی ہے جاں بھی حق کے واسطے

اور پا لیا ہے سچا مرتبہ اس التجا میں!

انیسؔ عشقِ الٰہی ہی اصل بندگی ہے

جس سے منور ہے روح اس فنا و بقا میں!

Dil Ne Hazaaron Sadme Uthaaye Raah-e-Wafa Mein

Par Lab Pe Shikwa Na Laaye Hum Is Raza Mein!

Hum Ne To Lutayi Hai Jaan Bhi Haq Ke Waaste

Aur Paa Liya Hai Saccha Martaba Is Iltija Mein!

غزل Urdu
Comment
میر ببر علی انیس
تعارفِ شاعر

میر ببر علی انیس

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1803 — 10 دسمبر 1874 📍 فیض آباد / لکھنؤ، ہندوستان

میر ببر علی انیسؔ (1803ء – 10 دسمبر 1874ء) اردو زبان و ادب کی تاریخ کے سب سے بے مثال مرثیہ نگار، صاحبِ فصاحت و بلاغت اور اردو شاعری کے شیکسپیئر مانے جاتے ہیں۔ آپ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے