شاعری ہب / نعت / ہمیں اپنا وہ کہتے ہیں ، محبت ہو تو ایسی ہو

ہمیں اپنا وہ کہتے ہیں ، محبت ہو تو ایسی ہو

Hamen Apna Woh Kehte Hain Mohabbat Ho to Aisi Ho

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہمیں اپنا وہ کہتے ہیں ، محبت ہو تو ایسی ہو

ہمیں نظروں میں رکھتے ہیں عنایت ہو تو ایسی ہو

وہ پتھر مارنے والوں کو دیتے ہیں دُعا اکثر

لاؤ کوئی مثال ایسی، شرافت ہو تو ایسی ہو

اشارہ جب وہ فرمائے ، تو پتھ ر بول اُٹھےی ہیں

نبوت ہو تو ایسی ہو ، رِسالت ہو تو ایسی ہو

وہاں مجرم کو ملتی ہیں پنا ہیں بھی جزائیں بھی

مدینے میں جو ل گتی ہے عدالت ہو تو ایسی ہو

بنا دیتے ہیں سائل کو سکندر وہ زمانے کا

کریمی ہو تو ایسی ہو، سخاوت ہو تو ایسی ہو

محمدﷺ کی ولادت پر ہوئے سب کو عطا بیٹے

اِسے میلاد کہتے ہیں ، ولادت ہو تو ایسی ہو

زمین وآسماں والے بھی آتے ہیں غلامانہ

حقیقت ہے یہ ہی ناؔصرحکومت ہو تو ایسی ہو

Hamen Apna woh kehte hain Mohabbat ho to aisi ho

Hamen nzron mein rakhte hain inayat ho to aisi ho

Woh Patthar marney oalon ko dete hain daa aksar

Laؤ Koi Misaal aisi sharafat ho to aisi ho

Ishara jab woh frmaئey to path r bol athei hain

Nbot ho to aisi ho rsalt ho to aisi ho

Wahan mujrim ko milti hain panna hain bhi jzaئin bhi

Madine mein jo l gti hai adalaat ho to aisi ho

Bana dete hain saئl ko sikandar woh Zamane ka

Krimi ho to aisi ho skhaot ho to aisi ho

Mhmd ki oladt par hue Sab ko Ata Bete

Ase milad kehte hain oladt ho to aisi ho

Zameen oasman oaley bhi ate hain ghlamanh

Haqiqat hai yeh hi nasrhkomt ho to aisi ho

نعت
Comment
ن
تعارفِ شاعر

نامعلوم / روایتی کلام

🏛️ روایتی و کلاسیکی

وہ لازوال اور مقبولِ عام نعتیں اور سلام جن کے تخلیق کار تاریخ میں نامعلوم ہیں یا جو روایتی ثنا خوانی کا حصہ ہیں۔

✍️ جواب دیں / تبصرہ فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔