شاعری ہب / شعر / گرمیِ حسرتِ ناکام سے جل جاتے ہیں

گرمیِ حسرتِ ناکام سے جل جاتے ہیں

Garmi-e-Hasrat-e-Nakaam se Jal Jaate Hain Sher Zauq

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

گرمیِ حسرتِ ناکام سے جل جاتے ہیں

ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں

Garmi-e-Hasrat-e-Nakaam Se Jal Jaate Hain

Hum Chiraaghon Ki Tarah Shaam Se Jal Jaate Hain

شعر Urdu
Comment
شیخ محمد ابراہیم ذوق
تعارفِ شاعر

شیخ محمد ابراہیم ذوق

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 22 اگست 1789 — 16 نومبر 1854 📍

شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ (22 اگست 1789ء – 16 نومبر 1854ء) اردو زبان کے سب سے پرشکوہ، فصیح البیان اور قادر الکلام کلاسیکی شعراء میں شمار ہوتے ہیں جنہیں قلعۂ معلیٰ دہلی میں 'ملک الشعراء'...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے