شاعری ہب / غزل / فطرت نے نہ بخشا مجھے اندیشۂ چالاک

فطرت نے نہ بخشا مجھے اندیشۂ چالاک

Fitrat Ne na Bakhsha Mujhe Andesha-e-Chaalak

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

فطرت نے نہ بخشا مجھے اندیشۂ چالاک

رکھتی ہے مگر طاقت پرواز مری خاک

وہ خاک کہ ہے جس کا جنوں صیقل ادراک

وہ خاک کہ جبریل کی ہے جس سے قبا چاک

وہ خاک کہ پروائے نشیمن نہیں رکھتی

چنتی نہیں پہنائے چمن سے خس و خاشاک

اس خاک کو اللہ نے بخشے ہیں وہ آنسو

کرتی ہے چمک جن کی ستاروں کو عرق ناک

Fitrat Ne Na Bakhsha Mujhe Andaisha-e-Chalaak

Rakhti Hai Magar Taqat-e-Parwaz Meri Khak

Woh Khak Ke Hai Jis Ka Junoon Saqeel-e-Idraak

Woh Khak Ke Jibreel Ki Hai Jis Se Qaba Chaak

Woh Khak Ke Parwaye Nasheeman Nahin Rakhti

Chunti Nahin Pehnaye Chaman Se Khs-o-Khashak

Iss Khak Ko Allah Ne Bakhse Hain Woh Ansu

Karti Hai Chamak Jin Ki Sitaron Ko Arq-Naak

غزل Urdu
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے