شاعری ہب / نعت / درودوں کی بارش سے دل منور ہو گیا

درودوں کی بارش سے دل منور ہو گیا

Duroodon ki Barish se Dil Munawwar Ho Gaya

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

درودوں کی بارش سے دل منور ہو گیا

نامِ احمدؐ سے سدا چہرہ درخشاں ہو گیا

سبز گنبد کی تجلی کا نظارہ دیکھ کر

ویرانۂ ہستی رشکِ گلستاں ہو گیا

شاہِ دوسرا کے دربار کا بھکاری ہوں میں

جس کے کرم سے سائل سلطاں ہو گیا

محشر کے تپتے دن میں شفاعت ملے گی

کالی کملی کے تلے عاصی شاداں ہو گیا

صبیحؔ نعت پڑھتے ہوئے دم نکلے مرا

کہ بارگاہِ شاہ میں کلام احساں ہو گیا

Duroodon ki Barish se Dil Munawwar ho gaya

Naam-e Ahmad se sada chehra drkhshan ho gaya

Sabz Gumbad ki tjli ka nazara dekh kar

Oiranh hasti rashk-e glstan ho gaya

Shah-e dusra ke darbar ka bhkari hoon mein

Jis ke Karam se saئl sltan ho gaya

Mahshar ke tptey Din mein Shafa'at mile gi

Kali kamli ke tley aasi shadan ho gaya

Sbih naat Padhte hue dam nkley Mara

Ke bargah-e Shah mein kalam ahsan ho gaya

نعت
Comment
صبیح رحمانی
تعارفِ شاعر

صبیح رحمانی

🏛️ معاصر دور ⏳ 1965ء – تاحال 📍 کراچی، پاکستان

سید صبیح الدین رحمانی المعروف 'صبیح رحمانی' (پیدائش: 27 جون 1965ء، کراچی) معاصر اردو نعت گوئی کے سب سے معتبر سفیر، محقق، نعت خواں اور نعت ریسرچ سنٹر کے بانی ہیں۔ ان کے نعتیہ مجموعوں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے