شاعری ہب / غزل / دود کو آج اس کے ماتم میں سیہ پوشی ہوئی

دود کو آج اس کے ماتم میں سیہ پوشی ہوئی

Dod ko Aaj As ke Matm Min

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دود کو آج اس کے ماتم میں سیہ پوشی ہوئی

وہ دلِ سوزاں کہ کل تک شمع، ماتم خانہ تھا

شکوۂ یاراں غبارِ دل میں پنہاں کر دیا

غالبؔ ایسے کنج کو شایاں یہی ویرانہ تھا

Dod ko aaj Is ke matam mein sih poshi hui

Woh Dil-e sozan ke kal tak shma matam Khana tha

Shko-e- iaran ghbar-e Dil mein pnhan kar diya

Ghalb aise knj ko shaian ihi Weerana tha

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے