شاعری ہب / غزل / دل میں اک درد سا اٹھتا ہے سدا

دل میں اک درد سا اٹھتا ہے سدا

Dil mein Ik Dard Sa Uth-Ta Hai Sada

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دل میں اک درد سا اٹھتا ہے سدا

کوئی جب نام ترا لیتا ہے

ہم تو خاموش سے بیٹھے ہیں یہاں

اشک کیوں آنکھ سے بہہ جاتا ہے

ساغرؔ اس عشق کا انجام نہ پوچھ

جو جلا ہے وہی رہ جاتا ہے

Dil Mein Ik Dard Sa Uth-ta Hai Sada

Koi Jab Naam Tera Leta Hai

Hum To Khamosh Se Baithe Hain Yahan

Ashk Kyun Aankh Se Beh Jaata Hai

غزل
Comment
ساغر صدیقی
تعارفِ شاعر

ساغر صدیقی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1928 — 19 جولائی 1974 📍

محمد اختر المعروف ساغر صدیقی (1928ء – 19 جولائی 1974ء) اردو زبان کے سب سے سچے، درویش، قلندر صفت اور المیہ کے عظیم شاعر تھے۔ آپ امرتسر (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے