شاعری ہب / نعت / دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہی تو ہو (لازوال شاہکار نعت)

دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہی تو ہو (لازوال شاہکار نعت)

Dil Jis se Zinda Hai Woh Tamanna Tumhi to Ho Behzad Lakhnavi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہی تو ہو

ہم بے نواؤں کا سہارا تمہی تو ہو!

چھوٹے نہ ہاتھ سے کبھی دامن حضورؐ کا

جس کے کرم سے زندہ ہیں آقاؐ تمہی تو ہو!

بہزادؔ کو جہاں میں کسی کا نہیں ہے خوف

جب سر پہ سایۂ دستِ شفا تمہی تو ہو!

Dil Jis Se Zinda Hai Woh Tamanna Tumhi To Ho

Hum Be-Nawaaon Ka Sahaara Tumhi To Ho!

Chhoote Na Haath Se Kabhi Daaman Huzoor Ka

Jis Ke Karam Se Zinda Hain Aaqa Tumhi To Ho!

Behzad Ko Jahaan Mein Kisi Ka Nahin Hai Khauf

Jab Sar Pe Saaya-e-Dast-e-Shifa Tumhi To Ho!

نعت Urdu
Comment
بہزاد لکھنوی
تعارفِ شاعر

بہزاد لکھنوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1900ء – 1974ء 📍 لکھنؤ، برطانوی ہندوستان / کراچی

سردار احمد خان المعروف 'بہزاد لکھنوی' (31 دسمبر 1900ء – 1974ء، لکھنؤ / کراچی) اردو کے کلاسیکی نعت گو شاعر، غزل گو اور ریڈیو پاکستان کے نامور نغمہ نگار تھے۔ انہوں نے نعت گوئی کو...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے