شاعری ہب / غزل / دیدنی ہے شکستگی دل کی

دیدنی ہے شکستگی دل کی

Deedani Hai Shikastagi Dil ki

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دیدنی ہے شکستگی دل کی

کیا عمارت تھی جو بکھر گئی ہے

ہم تو نکلے تھے اس دیارِ وفا سے

پر اداسی دل میں اتر گئی ہے

میرؔ صاحب فغان کرتے ہیں

روشنی خواب بن کے گزر گئی ہے

Deedani Hai Shikastagi Dil Ki

Kya Imarat Thi Jo Bikhar Gayi Hai

Hum To Nikle The Is Diyaar-e-Wafa Se

Par Udaasi Dil Mein Utar Gayi Hai

غزل
Comment
میر تقی میر
تعارفِ شاعر

میر تقی میر

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ فروری 1723 — 21 ستمبر 1810 📍

سید محمد تقی المعروف میر تقی میر (فروری 1723ء – 21 ستمبر 1810ء) اردو زبان کے سب سے بڑے کلاسیکی غزل گو شاعر، دبستانِ دہلی کے امام اور بلامقابلہ 'خدائے سخن' تسلیم کیے جاتے ہیں۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے