ابتداے عشق ہے روتا ہے کیا
Ibtida-e-Ishq Hai Rota Hai Kya
ابتداے عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
قافلے میں صبح کے اک شور ہے
یعنی غافل ہم چلے سوتا ہے کیا
سبز ہوتی ہی نہیں یہ سر زمیں
تخمِ خواہش دل میں تو بوتا ہے کیا
یہ نشانِ عشق ہیں جاتے نہیں
داغ چھاتی کے عبث دھوتا ہے کیا
غیرتِ یوسف ہے یہ وقتِ عزیز
میرؔ اس کو رائیگاں کھوتا ہے کیا
Ibtida-e-Ishq Hai Rota Hai Kya
Aage Aage Dekhiye Hota Hai Kya
Qaafile Mein Subh Ke Ik Shor Hai
Yaani Ghaafil Hum Chale Sota Hai Kya
Yeh Nishaan-e-Ishq Hain Jaate Nahin
Daagh Chhati Ke Abas Dhota Hai Kya
غزل
تعارفِ شاعر
میر تقی میر
سید محمد تقی المعروف میر تقی میر (فروری 1723ء – 21 ستمبر 1810ء) اردو زبان کے سب سے بڑے کلاسیکی غزل گو شاعر، دبستانِ دہلی کے امام اور بلامقابلہ 'خدائے سخن' تسلیم کیے جاتے ہیں۔...
