شاعری ہب / غزل / ابتداے عشق ہے روتا ہے کیا

ابتداے عشق ہے روتا ہے کیا

Ibtida-e-Ishq Hai Rota Hai Kya

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ابتداے عشق ہے روتا ہے کیا

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

قافلے میں صبح کے اک شور ہے

یعنی غافل ہم چلے سوتا ہے کیا

سبز ہوتی ہی نہیں یہ سر زمیں

تخمِ خواہش دل میں تو بوتا ہے کیا

یہ نشانِ عشق ہیں جاتے نہیں

داغ چھاتی کے عبث دھوتا ہے کیا

غیرتِ یوسف ہے یہ وقتِ عزیز

میرؔ اس کو رائیگاں کھوتا ہے کیا

Ibtida-e-Ishq Hai Rota Hai Kya

Aage Aage Dekhiye Hota Hai Kya

Qaafile Mein Subh Ke Ik Shor Hai

Yaani Ghaafil Hum Chale Sota Hai Kya

Yeh Nishaan-e-Ishq Hain Jaate Nahin

Daagh Chhati Ke Abas Dhota Hai Kya

غزل
Comment
میر تقی میر
تعارفِ شاعر

میر تقی میر

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ فروری 1723 — 21 ستمبر 1810 📍

سید محمد تقی المعروف میر تقی میر (فروری 1723ء – 21 ستمبر 1810ء) اردو زبان کے سب سے بڑے کلاسیکی غزل گو شاعر، دبستانِ دہلی کے امام اور بلامقابلہ 'خدائے سخن' تسلیم کیے جاتے ہیں۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے