شاعری ہب / نظم / درختِ زرد

درختِ زرد

Darakht-e-Zard Nazm Jaun Elia

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

وہ جو زرد پتہ تھا شاخ پر

وہ ہوا کے خوف سے گر پڑا

نہ کسی نے اس کا ملال کیا

نہ کسی نے اس پہ گریہ کیا

وہ مرا وجود تھا دوستو

جو زمانے بھر میں بکھر گیا!

Woh Jo Zard Patta Tha Shaakh Par

Woh Hawa Ke Khauf Se Gir Pada

Na Kisi Ne Us Ka Malaal Kiya

Na Kisi Ne Us Pe Giriye Kiya

Woh Mera Wujood Tha Dosto

Jo Zamane Bhar Mein Bikhar Gaya!

نظم
Comment
جون ایلیا
تعارفِ شاعر

جون ایلیا

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 14 دسمبر 1931 — 8 نومبر 2002 📍

سید جون اصغر المعروف جون ایلیا (14 دسمبر 1931ء – 8 نومبر 2002ء) اردو ادب کے سب سے منفرد، بے باک، غیر روایتی اور فلسفی شاعر، نثر نگار اور مفکر تھے۔ آپ امروہہ (بھارت) میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے