در نبی پر پڑا رہوں گا، پڑے ہی رہنے سے کام ہوگا
Dar Nabi par Para Rhon Ga Pare hi Rhney se Kaam Hoga
در نبی پر پڑا رہوں گا، پڑے ہی رہنے سے کام ہوگا
کبھی تو قسمت کھلے گی میری کبھی تو میرا اسلام ہوگا
اسی توقع پہ جی رہا ہوں یہی تمنا چلا رہی ہے
نگاہ لطف و کرم نہ ہوگی تو مجھ کو جینا حرام ہوگا
یہاں نہ مقصد ملا تو کیا ہے وہاں لے گا طفیل حضرت
ہمارا مطلب ہوا دھرا ہے نہ صبح ہوگا تو شام ہوگا
دیار رحمت پہ ہو گا قبضہ اُن ہی کا ہر سو بجے گا ڈنکا
جو حشر ہوگا تو دیکھ لینا انہی کا سب انتظام ہوگا
شفیع محشر لقب ہے اُن کا اُسے شفاعت سے کام ہوگا
ہے سب کا دارو مدار اس پر وہی مدارالمہام ہوگا
خلاف معشوق کچھ ہوا ہے نہ کوئی عاشق سے کام ہوگا
خُدا بھی ہوگا اُدھر ہی اے دل جدھر وہ عالی مقام ہوگا
ہوئی جو کوثر پہ باریابی تو کیف میکش کی دھج یہ ہوگی
بغل میں مینہ نظر میں ساقی خوشی سے ہاتھوں میں جام ہو گا
Dar Nabi par para rhon ga pare hi rhney se Kaam hoga
Kabhi to qismat khile gi Meri kabhi to Mera islam hoga
Usi / Assi Tawaqqo pe ji Raha hoon ihi tamanna chala rhi hai
Nigah lut̤f-o-Karam na hogi to mujh ko jina haram hoga
Yahan na maqsad mila to kiya hai wahan le Ga tfil hazrat
Hamara Matlab hua dhra hai na Subh hoga to Shaam hoga
Diar Rehmat pe ho Ga qabza an hi ka Har Sau baje Ga dnka
Jo Hashr hoga to dekh lena anhi ka Sab intizam hoga
Shfia Mahshar Laqab hai an ka ase Shafa'at se Kaam hoga
Hai Sab ka daru mdar Is par vahi mdaralmham hoga
Khilaf maashooq Kuch hua hai na Koi Aashiq se Kaam hoga
Khda bhi hoga adhr hi aey Dil jdhr woh aali mqam hoga
Hui jo Kausar pe bariabi to kif miksh ki dhj yeh hogi
Baġal mein minh Nazar mein Saaqi khushi se Hathon mein Jaam ho Ga
نامعلوم / روایتی کلام
وہ لازوال اور مقبولِ عام نعتیں اور سلام جن کے تخلیق کار تاریخ میں نامعلوم ہیں یا جو روایتی ثنا خوانی کا حصہ ہیں۔
