شاعری ہب / غزل / چلا جی سے دل کا جنازہ گیا

چلا جی سے دل کا جنازہ گیا

Chala Jee se Dil ka Janaza Gaya

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

چلا جی سے دل کا جنازہ گیا

وہ کیا شخص تھا جو زمانہ گیا

نہ وہ شوخیِ نوجوانی رہی

نہ وہ دورِ عشرت کا بانہ گیا

رہے خاک پر ہاتھ ملتے ہوئے

ہمارا تو سب کچھ خزانہ گیا

ہزاروں ارمان دل میں مٹے

وہ خوابوں کا سارا ٹھکانہ گیا

ہوئے میرؔ تنہا سرِ رہگزر

جہاں بھر کا رونا رلانہ گیا

Chala ji se Dil ka janaza gaya

Woh kiya Shakhs tha jo zamana gaya

Na woh shokhi-e nojoani rhi

Na woh door-e ashrt ka banh gaya

Rhey Khaak par haath milte hue

Hamara to Sab Kuch khazana gaya

Hzaron Armaan Dil mein mite

Woh Khwabon ka sara thkanh gaya

Hue mir Tanha sar-e rhgzr

Jahan bhr ka Rona rlanh gaya

غزل
Comment
میر تقی میر
تعارفِ شاعر

میر تقی میر

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ فروری 1723 — 21 ستمبر 1810 📍

سید محمد تقی المعروف میر تقی میر (فروری 1723ء – 21 ستمبر 1810ء) اردو زبان کے سب سے بڑے کلاسیکی غزل گو شاعر، دبستانِ دہلی کے امام اور بلامقابلہ 'خدائے سخن' تسلیم کیے جاتے ہیں۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے