شاعری ہب / غزل / باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے گا

باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے گا

Baatein Hamari Yaad Rahein Phir Baatein Aisi na Suniye Ga

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے گا

پڑھتے کسی کو سنیے گا تو دیر تلک سر دھنیے گا

ہم تو رہے ہیں شہرِ تمنا کے ویرانوں کے باسی

پھر یہ غزل اور یہ اندازِ بیاں کس سے سنیے گا

میرؔ کی باتوں میں ہے سوزِ جگر کا وہ دریا

جس کو پڑھو گے تو آنکھوں سے اشکِ رواں چنیے گا

Baatein Hamari Yaad Rahein Phir Baatein Aisi Na Suniye Ga

Padhte Kisi Ko Suniye Ga To Der Talak Sar Dhuniye Ga

Hum To Rahe Hain Shahr-e-Tamanna Ke Weeranon Ke Baasi

Phir Yeh Ghazal Aur Yeh Andaaz-e-Bayaan Kis Se Suniye Ga

غزل
Comment
میر تقی میر
تعارفِ شاعر

میر تقی میر

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ فروری 1723 — 21 ستمبر 1810 📍

سید محمد تقی المعروف میر تقی میر (فروری 1723ء – 21 ستمبر 1810ء) اردو زبان کے سب سے بڑے کلاسیکی غزل گو شاعر، دبستانِ دہلی کے امام اور بلامقابلہ 'خدائے سخن' تسلیم کیے جاتے ہیں۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے