شاعری ہب / نعت / انوارِ حرم کا نظارہ ملا ہے

انوارِ حرم کا نظارہ ملا ہے

Anoar-e Haram ka Nazara Mila Hai

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

انوارِ حرم کا نظارہ ملا ہے

طیبہ کی گلی کا سہارا ملا ہے

گنبدِ خضریٰ کی دید سے چمکی بصیرت

ڈوبا ہوا مقدر کا تارہ ملا ہے

شاہِ دوسرا کے دربار کے سائل ہیں ہم

جس کے در سے شاہی کا کنارہ ملا ہے

حشر کے تپتے دن میں شفاعت ملے گی

کالی کملی کا ٹھنڈا نظارہ ملا ہے

خالدؔ کے لبوں پہ ہے سدا صل علیٰ کا راگ

سرکار کے دربار کا اشارہ ملا ہے

Anoar-e Haram ka nazara mila hai

Taiba ki gali ka sahara mila hai

Gumbad-e khzri ki did se Chamki bsirt

Doba hua mqdr ka Tarah mila hai

Shah-e dusra ke darbar ke saئl hain Hum

Jis ke Dar se shahi ka kinara mila hai

Hashr ke tptey Din mein Shafa'at mile gi

Kali kamli ka thanda nazara mila hai

Khald ke Labon pe hai sada sl ali ka Raag

Sarkar ke darbar ka ishara mila hai

نعت
Comment
خالد محمود نقشبندی
تعارفِ شاعر

خالد محمود نقشبندی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1940ء – 2020ء 📍 لاہور، پاکستان

خالد محمود نقشبندی (1941ء – 2018ء، کراچی) ممتاز نعت نگار اور علمی و ادبی شخصیت تھے۔ ان کی نعت 'یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے' اور درود و...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے