انوارِ حرم کا نظارہ ملا ہے
Anoar-e Haram ka Nazara Mila Hai
انوارِ حرم کا نظارہ ملا ہے
طیبہ کی گلی کا سہارا ملا ہے
گنبدِ خضریٰ کی دید سے چمکی بصیرت
ڈوبا ہوا مقدر کا تارہ ملا ہے
شاہِ دوسرا کے دربار کے سائل ہیں ہم
جس کے در سے شاہی کا کنارہ ملا ہے
حشر کے تپتے دن میں شفاعت ملے گی
کالی کملی کا ٹھنڈا نظارہ ملا ہے
خالدؔ کے لبوں پہ ہے سدا صل علیٰ کا راگ
سرکار کے دربار کا اشارہ ملا ہے
Anoar-e Haram ka nazara mila hai
Taiba ki gali ka sahara mila hai
Gumbad-e khzri ki did se Chamki bsirt
Doba hua mqdr ka Tarah mila hai
Shah-e dusra ke darbar ke saئl hain Hum
Jis ke Dar se shahi ka kinara mila hai
Hashr ke tptey Din mein Shafa'at mile gi
Kali kamli ka thanda nazara mila hai
Khald ke Labon pe hai sada sl ali ka Raag
Sarkar ke darbar ka ishara mila hai
خالد محمود نقشبندی
خالد محمود نقشبندی (1941ء – 2018ء، کراچی) ممتاز نعت نگار اور علمی و ادبی شخصیت تھے۔ ان کی نعت 'یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے' اور درود و...
