مسافر کا روزہ: سفر کی شرعی مسافت، رخصت اور جدید ہوائی و زمینی سفر کے احکام

✍️ مولانا مفتی ظہیر الحق اعظمی • 📅 30 اکتوبر 2026 • ⏱️ مطالعہ: 8 منٹ
💡 خلاصہ و اہم شرعی نکات (Key Takeaways):
  • شرعی سفر کی کم از کم مسافت 48 میل یعنی تقریباً 77.2 کلومیٹر (یا احتیاطاً 78 کلومیٹر) ہے، جس کے لیے گھر کی بستی کی حدود سے نکلنا شرط ہے۔
  • اگر سفر صبح صادق سے پہلے شروع ہو چکا ہو تو مسافر کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت حاصل ہے، بعد میں قضا لازم ہوگی۔
  • اگر کوئی شخص صبح اپنے گھر پر روزے کی حالت میں تھا اور دن کے وقت سفر پر روانہ ہوا تو اس کے لیے اس دن کا روزہ توڑنا ہرگز جائز نہیں ہے۔
  • جدید پرآسائش سفر (جہاز، ایئر کنڈیشنڈ گاڑی) میں اگر کوئی تکلیف نہ ہو تو روزہ رکھنا افضل ہے، لیکن رخصت بدستور قائم رہتی ہے۔
  • ہوائی جہاز میں سفر کے دوران سحر و افطار زمینی گھڑی کے مطابق نہیں بلکہ آنکھوں سے سورج کے طلوع و غروب کو دیکھ کر کیا جائے گا۔
📖 قرآنی ہدایت (Quranic Decree)
«فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۚ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ ۖ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ»
پس جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔ اور تمہارا روزہ رکھنا ہی تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔ (سورۃ البقرۃ: 184)
📜 فرمانِ رسول ﷺ (Prophetic Guidance)
«عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: «لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ»»
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سفر میں مشقت میں مبتلا شخص کو دیکھ کر فرمایا: "سفر میں (اس قدر شدید مشقت اٹھا کر) روزہ رکھنا کوئی نیکی کی بات نہیں۔" (صحیح البخاری: 1946 | صحیح مسلم: 1115)

سفر اور شریعت کی سہولتیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی آسانی کے لیے سفر کی حالت میں عبادات میں خصوصی سہولتیں (رخصتیں) عطا فرمائی ہیں۔ چار رکعت والی فرض نماز کو قصر (دو رکعت) کر دیا گیا اور رمضان المبارک کے روزے کو مؤخر کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی گئی۔ عصرِ حاضر میں جب ہوائی جہاز، موٹرویز اور تیز رفتار ٹرینوں نے سفر کی مشقت کو انتہائی کم کر دیا ہے، مسافر کے روزے کے حوالے سے کئی اہم فقہی سوالات جنم لیتے ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔

1. شرعی سفر کی مسافت اور شرائط

فقہائے کرام کے مطابق مسافر کے لیے روزے کی رخصت اس وقت لاگو ہوتی ہے جب مندرجہ ذیل شرائط پوری ہوں:

  • مسافتِ سفر: مسافت کم از کم 77.2 سے 78 کلومیٹر (48 میل) یا اس سے زیادہ ہو۔
  • رہائش کی مدت: منزلِ مقصود پر 15 دن سے کم قیام کی نیت ہو۔ اگر کسی جگہ 15 دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو وہ وہاں پہنچتے ہی مقیم بن جائے گا اور رخصت ختم ہو جائے گی۔
  • شہر کی حدود سے نکلنا: رخصت اس وقت شروع ہوتی ہے جب انسان اپنے شہر یا بستی کی آخری آبادی اور حدود سے باہر نکل جائے۔

2. دورانِ دن سفر شروع کرنے کا حکم

یہ ایک انتہائی اہم اور کثیر الوقوع مسئلہ ہے:

  • صبح صادق سے پہلے سفر شروع ہونا: اگر کوئی شخص فجر سے پہلے ہی سفر پر روانہ ہو چکا تھا، تو اس کے لیے اختیار ہے کہ وہ اس دن کا روزہ نہ رکھے اور بعد میں قضا کر لے۔
  • دن کے وقت سفر روانہ ہونا: اگر کسی نے صبح صادق کے وقت اپنے گھر پر مقیم کی حالت میں روزہ رکھا، اور پھر 9 یا 10 بجے سفر پر نکلا، تو اس پر اس دن کا روزہ پورا کرنا فرض ہے۔ وہ سفر کا بہانہ بنا کر اس روزے کو توڑ نہیں سکتا۔ اگر توڑے گا تو سخت گناہ گار ہوگا، البتہ کفارہ نہیں صرف قضا ہوگی۔

3. جدید پرآسائش سفر میں کیا افضل ہے؟

قرآن کریم فرماتا ہے: «وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ» (اور تمہارا روزہ رکھنا ہی بہتر ہے)۔ اگر سفر ہوائی جہاز، تیز رفتار ٹرین یا آرام دہ اے سی کار میں ہو اور بھوک پیاس یا نقاہت کی کوئی غیر معمولی مشقت نہ ہو، تو متفقہ طور پر روزہ رکھنا افضل ہے تاکہ وقت پر فریضہ ادا ہو جائے۔ لیکن اگر سفر شدید گرمی، مشقت یا بیماری کا باعث بن رہا ہو تو اللہ کی دی ہوئی رخصت پر عمل کرتے ہوئے روزہ چھوڑ دینا اور بعد میں قضا کرنا افضل ہے۔

4. ہوائی جہاز (Aeroplane) میں افطار کا وقت

بین الاقوامی پروازوں میں سفر کرنے والوں کے لیے افطار کا وقت انتہائی نازک مسئلہ ہے:

  • زمینی گھڑی کا اعتبار نہیں: اگر ہوائی جہاز 35,000 فٹ کی بلندی پر اڑ رہا ہو، تو زمین پر سورج غروب ہو چکا ہوتا ہے مگر بلندی کی وجہ سے جہاز کی کھڑکی سے سورج بدستور چمکتا نظر آ رہا ہوتا ہے۔
  • شرعی قاعدہ: جب تک کھڑکی سے سورج کی قرص مکمل طور پر غائب نہ ہو جائے، افطار کرنا جائز نہیں۔ چاہے زمین کے جس شہر کے اوپر سے گزر رہے ہوں وہاں افطار کی اذان ہو چکی ہو۔
  • پائلٹ یا فضائی عملے کے اعلان اور کھڑکی سے براہِ راست مشاہدے کے بعد ہی افطار کیا جائے۔