وہ گناہ اور لغویات جو روزے کا ثواب ضائع کر دیتے ہیں: غیبت، جھوٹ اور سوشل میڈیا کے خطرات

✍️ مولانا حافظ عبد المنان سلفی • 📅 30 اکتوبر 2026 • ⏱️ مطالعہ: 7 منٹ
💡 خلاصہ و اہم شرعی نکات (Key Takeaways):
  • روزے کا بنیادی مقصد صرف پیٹ اور شرمگاہ کو روکنا نہیں بلکہ تمام اعضاء (زبان، آنکھ، کان اور دل) کو معصیت سے پاک رکھنا ہے۔
  • جھوٹ، غیبت، چغلی، بد زبانی اور لڑائی جھگڑا اگرچہ فقہی طور پر روزہ نہیں توڑتے مگر روزے کی روحانیت اور اجر کو مکمل جلا کر راکھ کر دیتے ہیں۔
  • سوشل میڈیا پر وقت کا ضیاع، بے ہودہ ویڈیوز، غیر محرم کی تصاویر دیکھنا اور کمنٹس میں بحث و تکرار روزے دار کے نور کو چھین لیتا ہے۔
  • اگر کوئی شخص روزے دار سے الجھنے یا گالی گلوچ کرنے کی کوشش کرے تو مسنون طریقہ یہ ہے کہ وہ دو مرتبہ کہے: «إِنِّي صَائِمٌ» (میں روزے سے ہوں)۔
  • رمضان المبارک اپنی روح اور باطن کو پاکیزہ بنانے کی تربیت گاہ ہے، اس لیے اسے لغویات کی نذر کرنے سے سختی سے بچنا چاہیے۔
📖 قرآنی ہدایت (Quranic Decree)
«يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ»
اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو (پرہیزگار بن جاؤ)۔ (سورۃ البقرۃ: 183)
📜 فرمانِ رسول ﷺ (Prophetic Guidance)
«قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «رُبَّ صَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ صِيَامِهِ الجُوعُ وَالعَطَشُ، وَرُبَّ قَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ قِيَامِهِ السَّهَرُ»»
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "بہت سے روزے دار ایسے ہیں جنہیں اپنے روزے سے سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا، اور بہت سے رات کو قیام کرنے والے ایسے ہیں جنہیں اپنے قیام سے سوائے جاگنے کے کچھ نہیں ملتا۔" (سنن ابن ماجہ: 1690 | مسند احمد)

روزے کی اصل روح اور باطنی تقاضے: اکثر لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک کھانے پینے اور ازواجی تعلقات سے رک جانے کا نام ہی روزہ ہے۔ بلاشبہ ظاہری فقہی شرائط کی حد تک یہ روزہ ادا ہو جاتا ہے، لیکن شریعت کی نگاہ میں یہ ایک بے روح لاشہ بن کر رہ جاتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے واضح فرما دیا کہ جس شخص نے برے اقوال اور برے اعمال کو نہ چھوڑا، اللہ کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔

1. زبان کی آفتیں: غیبت، جھوٹ اور گالی گلوچ

زبان وہ عضو ہے جو روزے کے اجر کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتا ہے:

  • غیبت (Backbiting): قرآن نے غیبت کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ حضرت سفیان ثوریؒ فرماتے تھے کہ غیبت روزے کو زخمی کر دیتی ہے۔ صحابہ کرامؓ کے نزدیک روزے دار کا زبان پر قابو پانا پیٹ پر قابو پانے سے بھی زیادہ اہم تھا۔
  • جھوٹ اور جھوٹی گواہی: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ» (صحیح بخاری)۔ جھوٹ بولنا روزے دار کے اجر پر پانی پھیر دیتا ہے۔
  • لڑائی جھگڑا اور گالم گلوچ: روزے کی حالت میں غصے پر قابو پانا سب سے بڑا جہاد ہے۔ حدیثِ قدسی میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کا روزے کا دن ہو تو وہ نہ فحش گوئی کرے اور نہ شوروغل مچائے، اور اگر کوئی اسے گالی دے یا جھگڑا کرے تو وہ کہہ دے کہ میں روزے دار ہوں۔

2. جدید دور کی گمراہی: سوشل میڈیا اور سکرین کا نشہ

آج کے دور میں سب سے بڑا چور جو روزے دار کے اوقات اور نیکیوں پر ڈاکہ ڈالتا ہے، وہ موبائل فون اور سوشل میڈیا ہے:

  • بے مقصد سکرولنگ (Doom Scrolling): ٹک ٹاک، ریلز اور یوٹیوب پر گھنٹوں کا ضیاع روزے دار کو ذکر، تلاوت اور استغفار سے غافل کر دیتا ہے۔
  • بد نظری (Eye Sins): غیر محرم خواتین کی تصاویر اور غیر اخلاقی ویڈیوز دیکھنا روزے کے نور کو سلب کر لیتا ہے۔ آنکھ کا روزہ یہ ہے کہ وہ حرام کو دیکھنے سے باز رہے۔
  • آن لائن بحث و مباحثہ اور نفرت انگیزی: فیس بک اور ٹویٹر پر سیاسی، فرقہ وارانہ اور ذاتی لڑائیاں روزے کے تقدس کو پامال کرتی ہیں۔

3. روزے کے تین درجات (امام غزالیؒ کی نگاہ میں)

حجۃ الاسلام امام محمد غزالیؒ نے ‘احیاء علوم الدین’ میں روزے کے تین مراتب بیان فرمائے ہیں:

  1. عوام کا روزہ: صرف پیٹ اور شرمگاہ کی خواہشات کو روکنا۔ یہ سب سے نچلا درجہ ہے۔
  2. خواص کا روزہ: پیٹ کے ساتھ ساتھ کان، آنکھ، زبان، ہاتھ اور پاؤں کو تمام گناہوں سے روک لینا۔ یہ صالحین کا روزہ ہے۔
  3. اخص الخواص کا روزہ: تمام اعضاء کے علاوہ دل کو بھی غیر اللہ کے خیالات، دنیاوی حرص اور وسوسوں سے پاک کر کے مکمل طور پر اللہ کی یاد میں مستغرق کر لینا۔ یہ انبیاء اور صدیقین کا روزہ ہے۔

روزے کی حفاظت کا عملی لائحہ عمل

اس بابرکت مہینے میں اپنے روزوں کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے خاموشی کی عادت اپنائیں، فضول محفلوں سے کنارہ کش رہیں، موبائل فون کے استعمال کے اوقات مخصوص کریں، اور اپنی زبان کو ہر وقت سبحان اللہ، الحمد للہ، لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر اور درود شریف کے ورد سے تر رکھیں۔