فدیہ، قضا اور کفارہ: روزے کے بدلے کی شرعی مقدار، قیمت اور مستحقین

✍️ مفتی عبد الرشید نعمانی • 📅 30 اکتوبر 2026 • ⏱️ مطالعہ: 9 منٹ
💡 خلاصہ و اہم شرعی نکات (Key Takeaways):
  • قضا صرف ایک دن کے بدلے ایک روزہ رکھنے کا نام ہے، جو بیماری، سفر یا حیض کی وجہ سے چھوٹ جانے والے روزوں پر لازم آتی ہے۔
  • فدیہ صرف اس بوڑھے یا دائمی لاعلاج مریض پر لازم آتا ہے جس کے صحت یاب ہونے کی کوئی امید نہ ہو۔ وقتی بیماری والے پر فدیہ نہیں بلکہ قضا ہے۔
  • ایک روزے کا فدیہ صدقۃ الفطر کے برابر ہے: یعنی نصف صاع (تقریباً 1.63 سے 2 کلو گرام) گندم یا اس کی مارکیٹ ویلیو کے برابر نقد رقم۔
  • کفارہ اس صورت میں لازم آتا ہے جب کوئی شخص بغیر کسی شرعی عذر کے جان بوجھ کر نیت کے ساتھ رکھا ہوا روزہ توڑ دے۔
  • روزے کا کفارہ مسلسل 60 روزے رکھنا ہے، اگر اس کی طاقت بالکل نہ ہو تو 60 مسکینوں کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلانا یا فدیہ دینا واجب ہے۔
📖 قرآنی ہدایت (Quranic Decree)
«وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ۖ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ»
اور جن لوگوں کے لیے روزہ رکھنا انتہائی مشقت طلب ہو (دائمی کمزوری یا بڑھاپے کی وجہ سے) وہ فدیہ دیں جو ایک مسکین کا کھانا ہے۔ پس جو خوشی سے زیادہ نیکی کرے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے۔ (سورۃ البقرۃ: 184)
📜 فرمانِ رسول ﷺ (Prophetic Guidance)
«أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: هَلَكْتُ! قَالَ: «مَا أَهْلَكَكَ؟» قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ... فَقَالَ ﷺ: «هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَهَلْ تَجِدُ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟»»
ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میں ہلاک ہو گیا! آپ ﷺ نے پوچھا: کس چیز نے تمہیں ہلاک کیا؟ اس نے کہا: میں رمضان میں (روزے کی حالت میں) اپنی اہلیہ سے قربت کر بیٹھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا کوئی غلام آزاد کر سکتے ہو؟ اس نے کہا نہیں، فرمایا: کیا مسلسل دو ماہ کے روزے رکھ سکتے ہو؟ کہا نہیں، فرمایا: کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ (صحیح البخاری: 1936 | صحیح مسلم)

قضا، فدیہ اور کفارہ میں بنیادی فرق: عام مسلمانوں میں روزے کے بدلے کے حوالے سے اکثر غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں اور لوگ قضا، فدیہ اور کفارہ کے احکام کو خلط ملط کر دیتے ہیں۔ شریعتِ اسلامیہ نے ہر صورتِ حال کے لیے الگ الگ احکام وضع فرمائے ہیں تاکہ بندہ اپنی کوتاہی یا مجبوری کی تلافی کر سکے۔ ذیل میں ان تینوں کے مابین تفصیلی شرعی فرق اور موجودہ دور کے مطابق پیمانے بیان کیے جا رہے ہیں۔

1. قضا کا مفہوم اور طریقہ

قضا کا مطلب یہ ہے کہ جو روزہ کسی عذر (مثلاً بیماری، سفر، حیض، نفاس، یا بے ہوشی) کی وجہ سے چھوٹ گیا ہو، اس کے بدلے رمضان کے بعد کسی بھی دن (سوائے عیدین اور ایامِ تشریق کے) ایک روزے کے بدلے ایک روزہ رکھا جائے:

  • قضا روزوں کو مسلسل رکھنا ضروری نہیں، بلکہ متفرق دنوں میں بھی رکھا جا سکتا ہے۔
  • اگر کسی کے ذمہ کئی سالوں کے قضا روزے ہوں تو وہ اندازہ لگا کر جلد از جلد ان کی قضا پوری کرے، اور ہر روزے کے ساتھ نیت کرے کہ "میرے ذمہ باقی ماندہ قضا روزوں میں سے پہلا روزہ”۔

2. فدیہ (Fidya) کس پر لازم ہے اور اس کی مقدار؟

فدیہ ہر شخص کے لیے نہیں ہے، بلکہ قرآن کریم کی رو سے فدیہ صرف اور صرف شیخِ فانی (انتہائی بوڑھا شخص) یا ایسے دائمی مریض پر لازم ہے جس کی بیماری کے شفا پانے کی کوئی امید نہ ہو:

  • اگر کوئی شخص جوان ہے اور وقتی طور پر بیمار ہوا ہے تو وہ فدیہ دے کر بری الذمہ نہیں ہو سکتا، بلکہ صحت یاب ہونے پر قضا ہی کرنی ہوگی۔
  • ایک روزے کے فدیے کی مقدار: نصف صاع گندم (تقریباً 2 کلو گرام آٹا یا گندم) یا ایک صاع کھجور/جو (تقریباً 3.5 سے 4 کلو گرام)، یا اس کی بازاری قیمت نقد ادا کی جائے۔
  • پورے مہینے کے 30 روزوں کا فدیہ 60 کلو گرام گندم یا اس کی مساوی رقم بنتی ہے۔
  • فدیہ کے مستحقین: فدیہ صرف انہی غریب، نادار اور مستحق لوگوں کو دیا جا سکتا ہے جو زکوٰۃ کے مستحق ہوں۔ اپنے والدین یا اپنی اولاد کو فدیہ نہیں دیا جا سکتا۔

3. کفارہ (Kaffarah) کے اسباب اور احکام

کفارہ شریعت کی طرف سے ایک سخت مالی یا بدنی تعزیر ہے جو حرمتِ رمضان کو جان بوجھ کر پامال کرنے پر عائد ہوتی ہے:

  • کفارہ کب واجب ہوتا ہے؟ جب کوئی شخص رمضان المبارک کے فرض روزے کی نیت صبح صادق سے پہلے کر چکا ہو، پھر دن کے وقت بغیر کسی مجبوری، بیماری یا سفر کے، جان بوجھ کر کھا پی لے یا بیوی سے مباشرت کر لے۔
  • کفارے کی ترتیب:
    1. ایک غلام آزاد کرنا (جو کہ موجودہ دور میں ممکن نہیں رہا)۔
    2. مسلسل 60 دن کے روزے رکھنا: درمیان میں ایک بھی ناغہ ہو گیا تو دوبارہ سے گنتی شروع کرنی ہوگی (سوائے خواتین کے ایامِ حیض کے)۔
    3. اگر بڑھاپے یا مستقل بیماری کی وجہ سے 60 روزے رکھنے کی بالکل طاقت نہ ہو تو 60 مسکینوں کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلانا یا 60 مسکینوں کو صدقۃ الفطر کے برابر رقم ادا کرنا۔
اہم فقہی نکتہ: اگر کسی نے بھول کر کھا پی لیا اور پھر یہ سمجھا کہ میرا روزہ ٹوٹ گیا ہے اور اس غلط فہمی میں جان بوجھ کر مزید کھا لیا، تو اس پر صرف قضا لازم آئے گی، کفارہ واجب نہیں ہوگا کیونکہ اس میں شبہ پیدا ہو گیا۔