۱. قدیم تاثر بمقابلہ قرآنی لفظ «سَقْفًا مَّحْفُوظًا»
قدیم فلاسفہ آسمان کو ایک شفاف شیشے کا گنبد یا خالی نیلا خلا سمجھتے تھے۔ مگر قرآنِ پاک نے چودہ سو سال قبل سورۃ الانبیاء میں ارشاد فرمایا:
«وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوظًا ۖ وَهُمْ عَنْ آيَاتِهَا مُعْرِضُونَ»
"اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ (اور حفاظت کرنے والی) چھت بنا دیا، اور وہ اس کی نشانیوں سے منہ موڑ رہے ہیں!” (سورۃ الانبیاء: ۳۲)
عربی میں «سَقْفًا مَّحْفُوظًا» کے دو گہرے مفاہیم ہیں: ۱) وہ چھت جو خود تباہی سے محفوظ ہے، اور ۲) وہ چھت جو اپنے نیچے بسنے والوں کی ہر آفت سے حفاظت کرتی ہے۔
۲. سائنس کی دریافتیں: زمین کے کثیر سطحی حفاظتی غلاف
بیسویں صدی میں جب خلائی راکٹ اور سیٹلائٹ اوپر بھیجے گئے تو سائنسدانوں پر انکشاف ہوا کہ خلا شدید ترین خطرات سے بھرا ہوا ہے۔ اگر زمین پر یہ حفاظتی چھت نہ ہوتی تو زمین پر زندگی کا ایک سیکنڈ برقرار رہنا ممکن نہ ہوتا:
- شہابِ ثاقب سے حفاظت (Meteor Shield): روزانہ خلا سے لاکھوں ٹن وزنی چٹانیں اور کائناتی پتھر زمین کی طرف گرتے ہیں۔ جیسے ہی وہ زمین کے کرۂ ہوائی (Mesosphere) میں داخل ہوتے ہیں، رگڑ کی وجہ سے جل کر راکھ ہو جاتے ہیں۔
- اوزون تہہ (Ozone Layer): اسٹریٹوسفیر میں موجود اوزون گیس کی تہہ سورج سے آنے والی خطرناک بالائے بنفشی شعاعوں (UV-C and UV-B) کو فلٹر کر کے روک لیتی ہے جو کینسر اور خلیاتی تباہی کا باعث بنتی ہیں۔
- وان ایلن بیلٹس (Van Allen Radiation Belts): ۱۹۵۸ء میں ڈاکٹر جیمز وان ایلن نے زمین کے مقناطیسی میدان (Magnetosphere) میں لپٹی دو وسیع ڈھالیں دریافت کیں۔ یہ شیلڈ سورج سے نکلنے والے خوفناک پلازما طوفان (Solar Wind) اور مہلک کائناتی شعاعوں (Cosmic Rays) کو موڑ کر زمین سے دور خلا میں پھینک دیتی ہے!
- درجۂ حرارت کا توازن: یہ چھت زمین کی گرمی کو رات کے وقت مکمل طور پر اڑنے نہیں دیتی ورنہ رات کا درجہ حرارت منفی ۲۰۰ ڈگری تک گر جاتا۔
۳. سائنسی تقابل کا خلاصہ
| قرآنی کلام (۶۱۰ء) | جدید خلائی و فضائی فزکس |
|---|---|
| آسمان کو محفوظ چھت بنایا گیا («سَقْفًا مَّحْفُوظًا»)۔ | اوزون تہہ اور وان ایلن بیلٹس کائناتی شعاعوں اور شہابیوں کے خلاف ڈھال ہیں۔ |
| انسان کو اس محفوظ چھت کی نشانیوں پر غور کرنے کا کہا گیا۔ | اگر یہ شیلڈ ایک منٹ کے لیے ہٹا دی جائے تو زمین پر تمام جاندار جھلس کر مر جائیں گے۔ |