۱. اونٹ کی تخلیق پر غور کی قرآنی دعوت
سورۃ الغاشیۃ میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:
«أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ»
"کیا وہ اونٹ کی طرف نہیں دیکھتے کہ اسے کیسی عجیب شان سے پیدا کیا گیا ہے؟” (سورۃ الغاشیۃ: ۱۷)
غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کے چار عظیم مظاہر کو ایک ساتھ گنوایا: اونٹ، آسمان کی بلندی، پہاڑوں کا جمنا، اور زمین کا پھیلایا جانا۔ ایک جاندار کو آسمان اور پہاڑوں کے ہم پلہ ذکر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے اندر خالق نے ایسے معجزات رکھے ہیں جنہیں سائنس آج جان پا رہی ہے۔
۲. پروفیسر ناٹ شمنٹ نیلسن کی سائنسی تحقیقات
ڈیوک یونیورسٹی کے نارویجن نژاد امریکی سائنسدان پروفیسر ناٹ شمنٹ نیلسن نے اونٹ کی فزیالوجی پر تفصیلی تحقیقات کیں جن پر انہیں بین الاقوامی سائنسی اعزازات ملے۔ انہوں نے درج ذیل حیرت انگیز سائنسی راز افشا کیے:
- بیضوی سرخ خلیات (Oval Red Blood Cells): دنیا کے تمام دودھ پلانے والے جانوروں میں خون کے سرخ خلیات گول ہوتے ہیں۔ صرف اونٹ وہ واحد میمل ہے جس کے ریڈ بلڈ سیلز بیضوی (Oval) ہوتے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ پانی کی شدید کمی اور خون گاڑھا ہو جانے کے باوجود اس کے سرخ خلیات باریک رگوں میں بہتے رہتے ہیں اور پھٹتے نہیں۔ اونٹ ایک وقت میں 100 سے 130 لیٹر پانی صرف 10 منٹ میں پی سکتا ہے، کسی دوسرے جانور میں اتنا پانی داخل ہو جائے تو خلیات پھٹ جانے سے اس کی فوری موت واقع ہو جائے گی!
- ناک کا قدرتی ایئر کنڈیشنر: اونٹ کی ناک کی نالیوں میں ایسے اسفنجی خلیات ہیں جو سانس باہر نکالتے وقت بخارات کا 66 فیصد پانی واپس چوس کر اندر جذب کر لیتے ہیں۔
- آنکھوں کی دوہری حفاظتی پلکیں: اونٹ کی آنکھ میں تین پلکیں ہوتی ہیں جن میں سے ایک شفاف پردہ ہے جو شدید ریت کے طوفان میں بند ہو کر بھی اونٹ کو آگے کا راستہ دکھاتا رہتا ہے۔
۳. سائنسی تقابل کا خلاصہ
| قرآنی کلام (۶۱۰ء) | جدید تقابلی فزیالوجی کی دریافتیں |
|---|---|
| اونٹ کی تخلیق کو کائنات کے سب سے منفرد شاہکاروں میں شمار کیا گیا۔ | اونٹ وہ واحد جاندار ہے جس کے بیضوی خلیات اور تھرمل ریگولیشن مافوق الفطرت بقا فراہم کرتے ہیں۔ |
| پہاڑوں اور آسمان کے ساتھ اونٹ کے مطالعے کا تقاضا کیا گیا۔ | اونٹ کے جسم کا ہر عضو صحرا کی انتہائی سخت ماحولیاتی رکاوٹوں کے خلاف ایک مکمل بائیو مشین ہے۔ |