فلکیات و کونیات 🔬 فلکی طبیعیات 📅 دریافت: بیسویں صدی کے اواخر (کاسمک مائیکروویو بیک گراؤنڈ ریسرچ) ⏱️ 6 منٹ مطالعہ

کائنات کا ابتدائی گیسی دھواں — سورۃ فصلت اور کونیاتی نیبولا کی فلکیاتی تصدیق

حوالۂ کلامِ الٰہی: سورۃ فصلت: ۱۱ • توثیق و تحقیق: پروفیسر یوشیدی کوزائی (Prof. Yoshihide Kozai - ڈائریکٹر ٹوکیو آبزرویٹری، جاپان)

۱. قدیم کونیات اور قرآنی اصطلاح «دُخَان»

قدیم یونانی فلاسفہ کائنات کا بنیادی عنصر چار چیزوں کو مانتے تھے: مٹی، ہوا، پانی اور آگ۔ ان میں سے کسی کے پاس بھی کائنات کی مادی تخلیق کے ابتدائی دور کا کوئی سائنسی تصور موجود نہ تھا۔ لیکن قرآنِ کریم نے سورۃ فصلت میں کائنات کی تخلیق کے ابتدائی مرحلے کو ایک بے نظیر کلمے کے ساتھ بیان فرمایا:

«ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ»
"پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جب کہ وہ محض ایک دھواں (Smoke / Gas) تھا، تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں وجود میں آ جاؤ خواہ خوشی سے یا ناخوشی سے، دونوں نے عرض کیا: ہم اطاعت گزار بن کر حاضر ہیں۔” (سورۃ فصلت: ۱۱)

۲. جدید ایسٹروفزکس اور کاسمک دھواں (Primordial Nebula)

جدید فلکی طبیعیات (Modern Astrophysics) کے مطابق، بگ بینگ کے فوراً بعد کائنات کے اندر کوئی ستارہ، سورج یا سیارہ موجود نہیں تھا۔ کائنات ایک انتہائی گرم، کثیف اور غیر شفاف گیسی غبار پر مشتمل تھی جو بنیادی طور پر ہائیڈروجن اور ہیلیم گیسوں اور تابکاری کے ذرات (Plasma & Cosmic Dust) پر مشتمل تھا۔

سائنسدان اسے "نیبولا” (Nebula) یا "کاسمک کلاؤڈ” کہتے ہیں۔ لیکن اگر سائنسی زبان میں گیس اور اس کے اندر معلق ٹھوس ذرات کے گرم آمیزے کی لغوی تعریف کی جائے تو اسے ہی عام زبان میں "دھواں” (Smoke) کہا جاتا ہے! عربی زبان میں بھاپ کو «بُخَار» اور دھند کو «ضَبَاب» کہتے ہیں، لیکن قرآن نے دقیق سائنسی حکمت کے تحت «دُخَان» (دھواں) کا لفظ چنا کیونکہ دھواں گرم بھی ہوتا ہے اور اس میں گیس کے ساتھ ٹھوس مائیکرو ذرات بھی ہوتے ہیں۔

۳. ٹوکیو آبزرویٹری کے پروفیسر یوشیدی کوزائی کا ردعمل

جاپان کی مشہور ٹوکیو آبزرویٹری کے ڈائریکٹر اور معروف ماہرِ فلکیات پروفیسر یوشیدی کوزائی (Prof. Yoshihide Kozai) کے سامنے جب سورۃ فصلت کی یہ آیت پیش کی گئی تو انہوں نے حیرت زدہ ہو کر کہا:

"میں قرآن کے اس بیان سے بے حد متاثر ہوا ہوں۔ ہم فلکیات دان آسمان کی ابتدا کے بارے میں صرف اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کہکشائیں بننے سے پہلے کائنات گرم گیس اور دھوئیں کی شکل میں تھی۔ قرآن میں لفظ «دخان» کا پایا جانا ایک ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ یہ کتاب کسی انسان کی لکھی ہوئی نہیں ہو سکتی، بلکہ یہ کائنات کے اصلی خالق کا کلام ہے۔”

۴. سائنسی تقابل کا خلاصہ

قرآنی کلام (۶۱۰ء) جدید فلکیات و کونیات
آسمان ابتدا میں صرف دھواں تھا («وَهِيَ دُخَانٌ»)۔ کائنات کی ابتدائی شکل گرم ہائیڈروجن و ہیلیم پلازما اور کاسمک ڈسٹ کا بادل تھی۔
دھوئیں کے بعد آسمانی اجرام اور زمین وجود میں آئے۔ کاسمک نیبولا کے سکڑنے اور کششِ ثقل کے مرتکز ہونے سے ستارے اور کہکشائیں بنیں۔
🌌 تمام سائنسی معجزات و قرآنی نشانیاں دیکھیں ←
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
معجزاتِ الٰہی و اعجازِ قرآن • اردو کووریج دائرۃ المعارف

کائنات کا ابتدائی گیسی دھواں — سورۃ فصلت اور کونیاتی نیبولا کی فلکیاتی تصدیق

«ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ»
"پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ محض ایک دھواں تھا، تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں وجود میں آ جاؤ خواہ خوشی سے یا ناخوشی سے، دونوں نے عرض کیا: ہم اطاعت گزار بن کر حاضر ہیں۔"
— سورۃ فصلت: ۱۱
خلاصۂ اعجاز و جدید سائنس:
یونانی فلسفہ کائنات کی ابتدا پانی یا آگ مانتا تھا؛ قرآن نے دقیق ترین اصطلاح «دُخَان» (دھواں، یعنی گرم گیس اور تیرتے ذرات کا آمیزہ) استعمال فرمائی جو پلازما اور کاسمک ڈسٹ کی ہو بہو سائنسی تعریف ہے۔
🔬 شعبہ: فلکی طبیعیات 📅 سائنسی دریافت: بیسویں صدی کے اواخر (کاسمک مائیکروویو بیک گراؤنڈ ریسرچ) urducoverage.com/miracles