ارض و بحریات 🔬 ارضیات 📅 دریافت: 1960ء کی دہائی ⏱️ 5 منٹ مطالعہ

پہاڑ بحیثیتِ زمین کی میخیں — سورۃ النبأ اور جدید ارضیات (Isostasy) کا معجزہ

حوالۂ کلامِ الٰہی: سورۃ النبأ: ۶-۷ و سورۃ الانبیاء: ۳۱ • توثیق و تحقیق: ڈاکٹر فرینک پریس (Dr. Frank Press - صدر امریکن اکیڈمی آف سائنسز)

۱. پہاڑ کا روایتی تصور بمقابلہ قرآنی تشبیہ

عام انسان جب پہاڑ کو دیکھتا ہے، تو اسے لگتا ہے کہ جیسے زمین کے ہموار فرش پر مٹی اور پتھروں کا ایک اونچا ٹیلا کھڑا ہے۔ کوئی عام انسان یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ سطحِ زمین پر نظر آنے والا پہاڑ اس کے اصل وجود کا محض ایک معمولی سا حصہ ہے اور اس کا اصل اور دیو ہیکل حصہ زمین کی گہرائیوں میں پیوست ہے۔

۲. آئسوسٹیسی اور پہاڑوں کی پوشیدہ جڑیں (Mountain Roots)

انیسویں صدی کے وسط میں برطانوی جیولوجسٹ سر جارج ایئری (George Airy) نے یہ نظریہ پیش کیا کہ بلند پہاڑوں کی کثافت کم ہوتی ہے اور وہ زمین کی تہہ میں اس طرح تیرتے ہیں جیسے برف کا تودہ (Iceberg) سمندر میں تیرتا ہے، جس کا دسواں حصہ اوپر اور نو حصے پانی کے نیچے ہوتے ہیں۔

بیسویں صدی میں جب سیسمولوجی (زلزلیاتی لہروں کی پیمائش) اور پلیٹ ٹیکٹونکس کا علم عروج پر پہنچا، تو یہ سائنسی حقیقت پایۂ ثبوت کو پہنچی کہ ماؤنٹ ایورسٹ جیسے عظیم پہاڑ، جن کی بلندی سطحِ سمندر سے تقریباً ۹ کلومیٹر ہے، ان کی جڑیں زمین کے اندر کرسٹ (Lithosphere) میں ۱۲۵ کلومیٹر سے زیادہ گہرائی تک دبی ہوئی ہیں۔

۳. قرآنی اعجاز: «وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا»

عربی زبان میں لفظ «وَتَد» (جمع: أَوْتَاد) خیمے کی اس میخ یا کھونٹے کو کہتے ہیں جس کا زیادہ تر حصہ زمین کے اندر ٹھونکا جاتا ہے تاکہ وہ خیمے کی رسیاں اور تناؤ برداشت کر سکے، اور اوپر صرف چھوٹا سا سر نظر آتا ہے۔ قرآن نے پہاڑوں کو چٹانیں، پتھر، یا ٹیلے کہنے کے بجائے قطعی لفظ **”اوتاد” (میخیں)** سے پکارا:

«أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهَادًا ۝ وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا»
"کیا ہم نے زمین کو بچھونا اور پہاڑوں کو میخیں نہیں بنایا؟” (سورۃ النبأ: ۶-۷)

۴. زمین کا استحکام: «أَن تَمِيدَ بِهِمْ»

قرآن نے صرف پہاڑوں کی ساخت کو میخ سے تشبیہ نہیں دی، بلکہ ان کا فنکشن بھی بتا دیا کہ یہ زمین کی ٹیکٹونک پلیٹوں کو لرزنے سے روکتے ہیں:

«وَأَلْقَىٰ فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ»
"اور اس نے زمین میں بھاری پہاڑ لنگر انداز کر دیے تاکہ وہ تمہیں لے کر ڈولنے اور لرزنے نہ لگے۔” (سورۃ النحل: ۱۵)

پلیٹ ٹیکٹونکس کے ماہرین کے مطابق، اگر پہاڑ نہ ہوتے اور ان کی جڑیں براعظمی پلیٹوں کو باہم مربوط نہ رکھتیں، تو زمین کی ہلکی سی گردش سے بھی زمین کی پلیٹیں بے قابو ہو کر لرزتیں اور زندگی کا وجود ناممکن ہو جاتا۔

🌌 تمام سائنسی معجزات و قرآنی نشانیاں دیکھیں ←
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
معجزاتِ الٰہی و اعجازِ قرآن • اردو کووریج دائرۃ المعارف

پہاڑ بحیثیتِ زمین کی میخیں — سورۃ النبأ اور جدید ارضیات (Isostasy) کا معجزہ

«أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهَادًا ۝ وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا ۝ وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِهِمْ»
"کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا؟ اور پہاڑوں کو میخیں (نہیں ٹھونکا)؟ ۝ اور ہم نے زمین میں لنگر (بھاری پہاڑ) ڈال دیے تاکہ وہ انہیں لے کر لرز نہ جائے۔"
— سورۃ النبأ: ۶-۷ و سورۃ الانبیاء: ۳۱
خلاصۂ اعجاز و جدید سائنس:
قدیم زمانے میں پہاڑ کو محض مٹی کا بلند ڈھیر سمجھا جاتا تھا؛ جدید ارضیات نے ثابت کیا کہ پہاڑ زمین کی بیرونی پرت کے نیچے پیوست میخیں ہیں۔
🔬 شعبہ: ارضیات 📅 سائنسی دریافت: 1960ء کی دہائی urducoverage.com/miracles