۱. قرآن کے منفرد الفاظ: «وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ»
قرآنِ مجید جب دیگر زمینی اشیاء یا انسان کی پیدائش کا ذکر کرتا ہے تو لفظ «خَلَقْنَا» (ہم نے پیدا کیا) یا «جَعَلْنَا» (ہم نے بنایا) استعمال کرتا ہے۔ لیکن جب سورۃ الحدید میں لوہے کا ذکر آیا تو قرآن نے ایک یکسر مختلف اور حیرت انگیز لفظ منتخب فرمایا:
«وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ»
"اور ہم نے لوہا اتارا جس میں زبردست جنگی ہیبت و طاقت ہے اور انسانوں کے لیے بے شمار فائدے ہیں۔” (سورۃ الحدید: ۲۵)
قرونِ وسطیٰ کے مفسرین اس لفظ "اتارا” پر غور کرتے رہے کہ لوہا تو کانوں سے زمین کھود کر نکلتا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اسے "اتارا” کیوں فرمایا؟
۲. جدید فلکی طبیعیات کا حیرت انگیز انکشاف
بیسویں صدی کے اواخر میں ایٹمی طبیعیات اور کونیاتی کیمیاء (Astrochemistry) کی تحقیق نے اس قرآنی راز سے پردہ اٹھایا۔ سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ ہلکے عناصر جیسے ہائیڈروجن اور ہیلیم سورج جیسے ستاروں کے فیوژن (Nuclear Fusion) میں بن سکتے ہیں، لیکن لوہے کا ایٹمی نمبر ۲۶ اور اس کی ساخت اتنی کثیف اور پیچیدہ ہے کہ اس کے ایٹم بننے کے لیے کم از کم **سینکڑوں ملین ڈگری سینٹی گریڈ** درجہ حرارت درکار ہوتا ہے۔
ہمارے نظامِ شمسی اور زمین کا درجہ حرارت لوہے کا ایک ایٹم بنانے کی بھی استعداد نہیں رکھتا۔ یہ عمل کائنات کے ان دیو ہیکل ستاروں (Nova اور Supernova) کے اندر ممکن ہوتا ہے جو ہمارے سورج سے بیسیوں گنا بڑے ہوتے ہیں۔ جب ان ستاروں کا ایندھن ختم ہوتا ہے تو وہ ایک ہولناک دھماکے کے ساتھ پھٹ جاتے ہیں اور اربوں ٹن پگھلا ہوا لوہا شہابیوں اور خلائی پتھروں کی صورت میں کائنات میں بکھر جاتا ہے۔
۳. زمین پر لوہے کی بمباری
زمین کی ابتدائی تشکیل کے دور میں اربوں شہابیے خلا سے زمین کی سطح پر آ گرے جن کے اندر لوہا موجود تھا۔ زمین کی ابتدائی تپش نے اس لوہے کو پگھلا کر زمین کے مرکز (Core) اور بالائی پرت میں منتقل کیا۔ گویا لوہا لفظی معنوں میں زمین پر خلا سے اتارا گیا ہے۔
۴. لوہے کی طبعی قوت اور انسانی فوائد
قرآن نے لوہے کی دو بنیادی خصوصیات گنوائیں: ۱) «فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ» (اس میں زبردست طاقت اور حربی قوت ہے) — دنیا کی تمام اسلحہ سازی، بکتر بند گاڑیاں اور عمارتیں لوہے اور اسٹیل پر قائم ہیں۔ ۲) «وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ» (اور انسانوں کے لیے بے شمار فائدے ہیں) — نہ صرف صنعت و حرفت، بلکہ انسانی خون میں موجود ہیموگلوبن کا بنیادی عنصر لوہا ہے جس کے بغیر جسم کے خلیات تک آکسیجن کی ترسیل ممکن نہیں۔