ارض و بحریات 🔬 علم بحریات 📅 دریافت: 1962ء - 1970ء ⏱️ 5 منٹ مطالعہ

دو سمندروں کا ملاپ اور درمیانی غیر مرئی پردہ — سورۃ الرحمن اور بحری جغرافیہ

حوالۂ کلامِ الٰہی: سورۃ الرحمن: ۱۹-۲۰ و سورۃ الفرقان: ۵۳ • توثیق و تحقیق: فرانسیسی بحری محقق ژاک کوسٹو (Jacques Cousteau) اور جرمن تحقیقی جہاز میٹیور (Meteor)

۱. دو سمندروں کا سنگم اور انسانی مشاہدہ

جہاں بحیرہ روم (Mediterranean Sea) اور بحر اوقیانوس (Atlantic Ocean) آبنائے جبل الطارق (Strait of Gibraltar) کے مقام پر ملتے ہیں، وہاں ظاہری طور پر پانی کا ایک وسیع و عریض نیلا پھیلاؤ نظر آتا ہے۔ انسان صدیوں سے کشتیوں میں اس مقام سے گزرتا رہا لیکن کبھی کسی کو یہ گمان بھی نہ ہوا کہ ان دونوں پانیوں کے درمیان ایک اٹل سرحدی لکیر موجود ہے۔

۲. جدید اوشنوگرافی اور سائنسی بیریئر کی دریافت

بیسویں صدی کے وسط میں جب جدید بحری تحقیقی جہازوں اور سیٹلائٹ امیجنگ کے ذریعے پانی کے درجہ حرارت، نمکیات (Salinity) اور کثافت (Density) کے پیمانے ریکارڈ کیے گئے، تو سائنسدان حیرت زدہ رہ گئے۔ معلوم ہوا کہ بحیرہ روم کا پانی بحر اوقیانوس کے پانی کے مقابلے میں زیادہ گرم، زیادہ نمکین اور زیادہ کثیف ہے۔

جب بحیرہ روم کا پانی جبل الطارق کی زیرِ آب چٹان سے گزر کر بحر اوقیانوس میں داخل ہوتا ہے، تو وہ سیدھا اس میں گھل مل نہیں جاتا، بلکہ وہ سینکڑوں کلومیٹر تک ایک ہزار میٹر کی گہرائی میں اپنی مخصوص کثافت اور نمکیات کے ساتھ الگ دھارے کی طرح تیرتا رہتا ہے، اور دونوں کے درمیان ایک سطحی تناؤ (Surface Tension) کی ڈھلوان رکاوٹ ہوتی ہے جسے اوشنوگرافی میں "Hydrodynamic Front” کہا جاتا ہے۔

۳. قرآنی اصطلاح: «بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ»

قرآنِ حکیم نے اس عظیم سائنسی مظہر کو کیسے لفظ بہ لفظ واضح فرمایا:

«مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ ۝ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ»
"اس نے دو سمندروں کو چھوڑ دیا جو باہم ملتے ہیں، ان کے درمیان ایک برزخ (رکاوٹ) ہے جس سے وہ حد سے تجاوز نہیں کرتے۔” (سورۃ الرحمن: ۱۹-۲۰)

لفظ «مَرَجَ» کا مطلب ہے پانیوں کا آپس میں ٹکرانا اور موجیں مارنا، اور «بَرْزَخٌ» کا مطلب ہے غیر مرئی پردہ یا روک۔ پھر فرمایا «لَّا يَبْغِيَانِ» یعنی کوئی سمندر دوسرے کے خواص اور ماحول پر زیادتی اور غلبہ پا کر اس کے طبعی وجود کو ختم نہیں کرتا۔

۴. تازہ اور کھارے پانی کا سنگم (سورۃ الفرقان)

قرآن نے مزید آگے بڑھ کر ایک اور جگہ دریا کے میٹھے پانی اور سمندر کے کھارے پانی کے سنگم کی بات کی:

«وَهُوَ الَّذِي مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هَٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَٰذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَحِجْرًا مَّحْجُورًا»
"اور وہی ہے جس نے دو پانیوں کو ملا رکھا ہے، یہ ایک خوش ذائقہ میٹھا ہے اور یہ دوسرا کھاری کڑوا، اور اس نے ان دونوں کے درمیان ایک اوٹ اور ایسی رکاوٹ بنا دی ہے جو کھلنے سے روک دی گئی ہے۔” (سورۃ الفرقان: ۵۳)

جہاں دریا سمندر میں گرتا ہے (Estuary)، وہاں تازہ پانی اور سمندری پانی کے درمیان ایک منقسم زون (Pycnocline Zone) بنتا ہے جس میں جانداروں کے لیے مخصوص کیمیائی توازن قائم رہتا ہے۔ قرآن نے اسے «حِجْرًا مَّحْجُورًا» (ممنوعہ علاقہ) قرار دیا۔

🌌 تمام سائنسی معجزات و قرآنی نشانیاں دیکھیں ←
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
معجزاتِ الٰہی و اعجازِ قرآن • اردو کووریج دائرۃ المعارف

دو سمندروں کا ملاپ اور درمیانی غیر مرئی پردہ — سورۃ الرحمن اور بحری جغرافیہ

«مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ ۝ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ»
"اس نے دو سمندروں کو رواں کیا جو باہم ملتے ہیں، مگر ان دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔"
— سورۃ الرحمن: ۱۹-۲۰ و سورۃ الفرقان: ۵۳
خلاصۂ اعجاز و جدید سائنس:
ظاہری آنکھ پانی کو یکساں دیکھتی ہے؛ جدید میرین بیالوجی نے ثابت کیا کہ مختلف سمندروں کے درمیان بارڈر (Frontal Barrier) ہوتا ہے جو پانیوں کے خواص کو جدا رکھتا ہے۔
🔬 شعبہ: علم بحریات 📅 سائنسی دریافت: 1962ء - 1970ء urducoverage.com/miracles