۱. قدیم طب کی گمراہیاں اور قرآنی وضاحت
سترہویں اور اٹھارہویں صدی تک دنیا کے ممتاز اطباء کا یہ ماننا تھا کہ مرد کے نطفے میں ایک خوردبین سائز کا مکمل انسان پہلے سے تیار بیٹھا ہوتا ہے جسے Preformationism کہا جاتا تھا، اور ماں کا رحم صرف اس چھوٹے انسان کے بڑے ہونے کے لیے ایک انکیوبیٹر کا کام کرتا ہے۔ جبکہ ارسطو کا نظریہ تھا کہ بچہ عورت کے حیض کے خون کے جمنے سے بنتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ۱۹۴۰ء کی دہائی تک انسان کو جنین کے تفصیلی خردبینی مراحل کا قطعی علم ہی نہیں تھا۔
۲. پروفیسر کیتھ ایل مور کا تاریخی تحقیقی تجربہ
۱۹۸۰ء کی دہائی کے آغاز میں کینیڈا کی معروف یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے چیئرمین شعبۂ اناٹومی اور کینیڈین ایسوسی ایشن آف ایناٹومسٹس کے سابق صدر پروفیسر کیتھ ایل مور (Dr. Keith L. Moore) — جن کی کتاب "The Developing Human” دنیا بھر کے میڈیکل کالجوں میں ریفرنس ٹیکسٹ بک کے طور پر پڑھائی جاتی ہے — کو دعوت دی گئی کہ وہ قرآنِ مجید میں بیان کردہ انسانی جنین کے مراحل کا جدید علم سے تقابل کریں۔
پروفیسر کیتھ مور نے جب آیات کا عربی گرامر اور خردبینی سلائیڈز کے ساتھ موازنہ کیا تو وہ ششدر رہ گئے۔ انہوں نے اپنی شہرہ آفاق کتاب کا ایک خصوصی ایڈیشن شایع کیا جس میں قرآنی بیانات کو بطور سائنسی شواہد شامل کیا گیا۔
۳. قرآنی مراحل کی حیران کن خردبینی درستگی
قرآن نے انسانی تخلیق کو درج ذیل مراحل میں تقسیم کیا ہے:
- نطفہ امشاج (Zygote): مرد کے نطفے اور عورت کے بیضے کا آمیزہ («إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ» — الدھر: ۲)۔
- علقہ (Alaqah – جونک نما مادہ جو چمٹ جائے): بارآور بیضہ جب رحم کی دیوار سے چمٹتا ہے (Implantation)، تو اس کی ساخت تین معنوں میں علقہ کہلاتی ہے: ۱) یہ رحم کی دیوار سے جونک کی طرح چمٹا ہوتا ہے، ۲) یہ ماں کے خون سے غذا لیتا ہے جیسے جونک خون چوستی ہے، ۳) خردبین سے دیکھنے پر 24 دن کے جنین کی جسمانی ہیئت لفظی طور پر ایک تازہ جونک (Leech) سے مشابہ ہوتی ہے۔
- مضغہ (Mudghah – چبایا ہوا لوتھڑا): ۲۸ ویں دن جنین پر مہروں کے ابھار (Somites) بنتے ہیں۔ پروفیسر کیتھ مور نے موم کی پٹی کو اپنے دانتوں تلے دبا کر دیکھا، تو اس دانتوں کے نشانات اور ۲۸ دن کے جنین کے ابھاروں میں ہو بہو یکسانیت پائی گئی۔
- عظام اور لحم (Bones & Flesh): جدید میڈیکل سائنس تصدیق کرتی ہے کہ پہلے کارٹیلیج اور ہڈیوں کا ڈھانچہ (Cartilage Skeleton) بنتا ہے اور اس کے بعد اس پر عضلات اور پٹھے (Muscles/Flesh) چڑھائے جاتے ہیں («فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا»)!
۴. پروفیسر کیتھ مور کے تاریخی الفاظ
ماسکو میں ہونے والی ایک بین الاقوامی طبی کانفرنس میں ڈاکٹر کیتھ مور نے کھلے عام اعلان فرمایا:
"میرے لیے اس حقیقت کو قبول کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ یہ کلام خدا کا کلام ہے۔ کیونکہ چودہ سو سال قبل کوئی شخص اس قدر درست تفصیلات بیان نہیں کر سکتا تھا، خاص طور پر جب کہ اس دور میں جنین کی ابتدائی تفصیلات جاننے کے لیے کوئی مائیکروسکوپ موجود نہ تھی۔”
۵. سائنسی تقابل کا جدول
| قرآنی مرحلہ | جدید جنینیاتی اصطلاح (Medical Term) | حیاتیاتی حقیقت |
|---|---|---|
| نطفہ امشاج | Fertilized Ovum / Zygote | سپرم اور اووم کا ملاپ |
| علقہ | Blastocyst Implantation | رحم سے جونک کی طرح چمٹنا |
| مضغہ | Somite Embryo | چبائے ہوئے لوتھڑے جیسے ابھار |
| عظام اور لحم | Osteogenesis & Myogenesis | ہڈیوں کی تشکیل اور پٹھوں کا ان پر چڑھنا |