فلکیات و کونیات 🔬 فلکی طبیعیات 📅 دریافت: 1929ء (ایڈون ہبل) ⏱️ 6 منٹ مطالعہ

کائنات کا پھیلاؤ اور بگ بینگ — سورۃ الذاریات اور جدید فلکی فزکس کا تاریخی انکشاف

حوالۂ کلامِ الٰہی: سورۃ الذاریات: ۴۷ و سورۃ الانبیاء: ۳۰ • توثیق و تحقیق: ایڈون ہبل (Edwin Hubble) اور جارج لیماتر (Georges Lemaître)

۱. کائنات کا ساکن تصور بمقابلہ قرآنی انکشاف

قدیم یونانی فلاسفہ ارسطو اور بطلیموس سے لے کر انیسویں صدی کے مغربی سائنسدانوں تک، پوری دنیا کا یہ متفقہ نظریہ تھا کہ کائنات ہمیشہ سے ایسی ہی چلی آ رہی ہے، اس کا حجم طے شدہ ہے اور یہ مکمل طور پر جامد (Static) ہے۔ حتیٰ کہ البرٹ آئن سٹائن نے جب 1915ء میں اپنا شہرۂ آفاق نظریۂ اضافیت (General Theory of Relativity) پیش کیا، تو اس کے ریاضیاتی مساواتیں چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں کہ کائنات یا تو پھیل رہی ہے یا سکڑ رہی ہے، لیکن ساکن کائنات کے روایتی سائنسی تعصب کی وجہ سے آئن سٹائن نے اپنی مساوات میں زبردستی ایک فرضی کونیاتی مستقل (Cosmological Constant) شامل کر کے اسے ساکن دکھایا، جسے بعد میں اس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی سائنسی بھول قرار دیا۔

۲. ایڈون ہبل کی دریافت اور ماؤنٹ ولسن آبزرویٹری

۱۹۲۹ء میں امریکی فلکیات دان ایڈون ہبل (Edwin Hubble) نے کیلیفورنیا کی ماؤنٹ ولسن آبزرویٹری میں اس وقت کی دنیا کی سب سے طاقتور ۱۰۰ انچ کی دوربین سے رات کے آسمان پر کہکشاؤں کی روشنی کا طبعی معائنہ کیا۔ انہوں نے نوری طیف (Light Spectrum) میں "سرخ جھکاؤ” (Redshift / Doppler Effect) کا مشاہدہ کیا۔ یہ دریافت طبیعیات کا ایک ناقابلِ تردید ثبوت تھی کہ تمام دور دراز کہکشائیں ہم سے اور ایک دوسرے سے خوفناک رفتار کے ساتھ دور بھاگ رہی ہیں، یعنی پوری کائنات ایک غبارے کی مانند مسلسل پھیل رہی ہے۔

۳. قرآنی الفاظ کی بے مثل بلاغت: «وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ»

قرآنِ مجید نے چودہ سو سال قبل، جب انسان کو دوربین کا تصور تک معلوم نہ تھا، سورۃ الذاریات میں ارشاد فرمایا:

«وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ»
"اور ہم نے آسمان کو اپنے دستِ قدرت سے بنایا اور بے شک ہم اس کو مسلسل وسعت دینے والے ہیں۔” (سورۃ الذاریات: ۴۷)

عربی زبان کی گرامر میں لفظ «مُوسِعُونَ» اسمِ فاعل ہے جو زمانۂ حال اور مستقبل کے تسلسل (Continuity) کو ظاہر کرتا ہے۔ یعنی کائنات کا پھیلنا کوئی ایک بار کا عمل نہیں تھا، بلکہ خالقِ کائنات نے کائنات کو ایسے قوانین پر پیدا فرمایا ہے کہ وہ ہر سیکنڈ مسلسل وسعت پا رہی ہے۔

۴. ابتدائی دھماکہ (بگ بینگ) اور سورۃ الانبیاء کا اعجاز

اگر کائنات مسلسل پھیل رہی ہے تو اس کا سادہ سائنسی تقاضا یہ ہے کہ اگر وقت کو الٹا چلایا جائے تو اربوں سال پہلے کائنات کا سارا مادہ اور توانائی ایک اکلوتے لامحدود کثیف نقطے (Singularity) میں سمٹے ہوئے تھے۔ اس نقطے کے زوردار دھماکے کے ساتھ پھٹنے سے مادہ، زمان اور مکان (Space-Time) وجود میں آئے۔ قرآن نے اس حقیقت کو یوں بیان فرمایا:

«أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا»
"کیا ان کافروں نے غور نہیں کیا کہ آسمان اور زمین دونوں آپس میں باہم پیوست اور جڑے ہوئے تھے، پھر ہم نے دونوں کو پھاڑ کر جدا کر دیا؟” (سورۃ الانبیاء: ۳۰)

عربی میں «رَتْق» جڑی ہوئی اکائی کو کہتے ہیں اور «فَتْق» پھاڑ کر شگاف ڈالنے اور جدا کرنے کو کہتے ہیں — یہ بگ بینگ کی ہو بہو لفظی تصویر کشی ہے۔

۵. سائنسی تقابل کا خلاصہ

قرآنی بیانات (۶۱۰ء) جدید سائنس کی دریافتیں (۱۹۲۹ء تا حال)
کائنات ابتدا میں ایک ہی جڑی ہوئی اکائی تھی («رَتْقًا»)۔ کائنات ایک نقطۂ سنگولیرٹی سے پھٹ کر وجود میں آئی (Big Bang Theory)۔
کائنات جامد نہیں بلکہ مسلسل وسعت پا رہی ہے («وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ»)۔ ایڈون ہبل کا قانون اور جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے کائنات کے مسلسل پھیلاؤ کا ثبوت۔

۶. فکری نتیجہ اور بصیرت

چودہ صدیاں قبل صحرائے عرب میں مبعوث ہونے والے رسولِ اکرم ﷺ، جنہوں نے کبھی کسی دنیوی یونیورسٹی میں تعلیم نہیں پائی، کائنات کے اس کونیاتی راز کو کس طرح جان سکتے تھے؟ یہ اس بات کی چمکتی ہوئی دلیل ہے کہ یہ کلام اسی ذاتِ برحق کا ہے جس نے یہ فلکِ بے کراں تخلیق فرمایا ہے۔

🌌 تمام سائنسی معجزات و قرآنی نشانیاں دیکھیں ←
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
معجزاتِ الٰہی و اعجازِ قرآن • اردو کووریج دائرۃ المعارف

کائنات کا پھیلاؤ اور بگ بینگ — سورۃ الذاریات اور جدید فلکی فزکس کا تاریخی انکشاف

«وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ ۝ أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا»
"اور ہم ہی نے آسمان (کائنات) کو اپنے دستِ قدرت سے بنایا اور بے شک ہم ہی اس کو مسلسل وسعت دینے والے ہیں ۝ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین آپس میں جڑے ہوئے تھے، پھر ہم نے انہیں پھاڑ کر الگ کیا؟"
— سورۃ الذاریات: ۴۷ و سورۃ الانبیاء: ۳۰
خلاصۂ اعجاز و جدید سائنس:
قدیم و یونانی فلسفہ کائنات کو جامد کہتا تھا؛ قرآن نے ۱۴۰۰ سال قبل کائنات کے پھیلنے («لَمُوسِعُونَ») اور ابتدائی بند اکائی کے پھٹنے («فَفَتَقْنَاهُمَا») کی خبر دی۔
🔬 شعبہ: فلکی طبیعیات 📅 سائنسی دریافت: 1929ء (ایڈون ہبل) urducoverage.com/miracles