۱. قرآنی الفاظ کی اعجازی ترتیب: السمع، الابصار، الافئدۃ
قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر انسان کی حسی صلاحیتوں کا ذکر آیا ہے۔ ایک حیران کن مشاہدہ یہ ہے کہ قرآن میں جہاں بھی سماعت اور بصارت کا تقابل کیا گیا ہے، وہاں ہمیشہ لفظ «السَّمْع» (سننے کی حس) کو «الْأَبْصَار» (دیکھنے کی حس) سے پہلے ذکر کیا گیا ہے، اور ان دونوں کے بعد «الْأَفْئِدَة» (سوچنے سمجھنے والے دل و دماغ) کا نام آیا ہے۔
چودہ سو سال تک مفسرین اسے فصاحت و بلاغت کا تقاضا سمجھتے رہے، لیکن بیسویں صدی میں جب الٹرا ساؤنڈ اسکینز اور مائیکرو اسکوپک ایمبریالوجی نے جنین کے اعضاء بننے کی ترتیب کا مطالعہ کیا تو میڈیکل سائنس دنگ رہ گئی۔
۲. جنینیات میں سماعت کی اولیت کا سائنسی ثبوت
ٹورنٹو یونیورسٹی کے پروفیسر کیتھ ایل مور اپنی مستند میڈیکل کتاب The Developing Human میں لکھتے ہیں کہ رحمِ مادر کے اندر انسانی جنین میں حواس بننے کی ترتیب درج ذیل ہے:
- سب سے پہلے سماعت: حمل کے 22 ویں دن کان کی اندرونی ساخت بننا شروع ہو جاتی ہے اور چوتھے سے پانچویں مہینے تک جنین کا اندرونی کان مکمل طور پر فعال ہو جاتا ہے۔ بچہ پیٹ کے اندر ماں کے دل کی دھڑکن اور بیرونی آوازیں سنتا ہے اور ان پر چونکتا ہے۔
- پھر بصارت: اگرچہ آنکھ کے ابتدائی خلیات بنتے ہیں لیکن وہ حمل کے ساتویں مہینے تک جڑے اور بند رہتے ہیں۔ پیدائش کے وقت بھی نوزائیدہ بچہ صاف نہیں دیکھ سکتا، بلکہ اس کے دیکھنے اور پہچاننے کی حس پیدائش کے تیسرے اور چوتھے مہینے میں جا کر مکمل ہوتی ہے۔
- آخر میں عقل و ادراک (الافئدۃ): دماغ کا سوچنے اور فیصلہ کرنے کا خطہ شعور کی پختگی کے ساتھ بعد میں پروان چڑھتا ہے۔
۳. سائنسی تقابل کا خلاصہ
| قرآنی ترتیب (۶۱۰ء) | جدید ایمبریالوجی کے شواہد |
|---|---|
| سماعت کا بصارت سے پہلے مستقل ذکر («السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ»)۔ | کان رحم کے چوتھے ماہ ہی سننے کے قابل ہو جاتے ہیں جبکہ آنکھ پیدائش کے بعد تک دھندلی رہتی ہے۔ |
| دل و دماغ کی فہم کو سب سے آخر میں لایا گیا («وَالْأَفْئِدَةَ»)۔ | ادراک اور فہم کی صلاحیت انسان میں حسی اعضاء کے بننے کے طویل عرصے بعد بیدار ہوتی ہے۔ |