۱. سورۃ التکویر کے کونیاتی الفاظ کی بلاغت
قرآنِ پاک کی سورۃ التکویر میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:
«فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ الْجَوَارِ الْكُنَّسِ»
"پس میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے، نگاہوں سے غائب ہو جانے والے ستاروں کی جو تیزی سے چلتے ہیں اور راستے کو صاف کرتے چلے جاتے ہیں!” (سورۃ التکویر: ۱۵-۱۶)
عربی زبان کی لغت میں ان تینوں الفاظ کی جڑیں حیران کن ہیں:
- الْخُنَّس: ایسی چیز جو خود کو سمیٹ لے، پیچھے ہٹ جائے اور نگاہوں سے مکمل طور پر اوجھل اور غائب ہو جائے۔
- الْجَوَارِ: تیزی سے دوڑنے والے اور بھاگنے والے۔
- الْكُنَّس: عربی میں "کَنَسَ” کا معنی جھاڑو دینا یا راستہ صاف کرنا ہے («الْمِكْنَسَة» جھاڑو کو کہتے ہیں)۔ یعنی وہ ستارے جو خلا میں گھومتے ہوئے راستے کا تمام مادہ اپنے اندر سمیٹ کر خلا کو صاف کر دیتے ہیں!
۲. جدید فلکیات اور بلیک ہول کی ہو بہو تعریف
جب ایک عظیم الجثہ ستارہ مرتا ہے تو اس کا مادہ کششِ ثقل کے نیچے اپنے ہی مرکز پر سمٹ کر منہدم ہو جاتا ہے (Gravitational Collapse)۔ اس کے نتیجے میں ایک بلیک ہول (Black Hole) بنتا ہے جس کی کشش اتنی شدید ہوتی ہے کہ روشنی بھی وہاں سے باہر نہیں آ سکتی، اس لیے وہ خلائی دوربینوں کی نگاہوں سے مکمل طور پر پوشیدہ اور غائب ہوتا ہے («الْخُنَّس»)۔
مزید برآں، بلیک ہولز خلا میں تیزی سے سفر کرتے ہیں اور اپنے راستے میں آنے والے گرد، گیسوں، سیاروں اور ستاروں کو خلا کے ایک کائناتی ویکیوم کلینر کی طرح نگل کر راستہ صاف کر دیتے ہیں («الْكُنَّس»)۔ ۲۰۱۹ء میں جب ایونٹ ہورائزن ٹیلی اسکوپ نے تاریخ میں پہلی بار M87 کہکشاں کے بلیک ہول کی تصویر لی تو پوری دنیا نے دیکھا کہ وہ ایک بلیک ہول ہی ہے جو خلا کا جھاڑو بنا ہوا ہے۔
۳. سائنسی تقابل کا خلاصہ
| قرآنی کلمات (۶۱۰ء) | جدید فلکی فزکس کی تعریف |
|---|---|
| ستارے جو غائب ہو جائیں اور دکھائی نہ دیں («الْخُنَّسِ»)۔ | بلیک ہولز کی کثافت اتنی زیادہ ہے کہ وہ نظر نہیں آتے، روشنی بھی فرار نہیں ہو سکتی۔ |
| تیزی سے چلتے ہوئے جھاڑو کی طرح خلا کو صاف کرنے والے («الْجَوَارِ الْكُنَّسِ»)۔ | کششِ ثقل کے ذریعے اپنے مدار میں موجود تمام مادے کو ہڑپ کر لینے والے کائناتی ویکیوم۔ |