۱. گرامر کا قرآنی اعجاز: «اتَّخَذَتْ» بمقابلہ «اتَّخَذَ»
عربی زبان میں لفظ "العنکبوت” مذکر اور مونث دونوں پر بولا جا سکتا ہے، لیکن جب فعل لایا جائے تو مذکر کے لیے «اتَّخَذَ» اور مونث کے لیے تائے تانیث کے ساتھ «اتَّخَذَتْ» بولا جاتا ہے۔ قرآنِ مجید نے سورۃ العنکبوت میں فرمایا: «كَمَثَلِ الْعَنكَبُوتِ اتَّخَذَتْ بَيْتًا» یعنی "مکڑی کی مثال جس نے (مونث) گھر بنایا”۔
جدید اینٹامولوجی (Entomology – علم الحشرات) نے ثابت کیا ہے کہ جالا بننے کے لیے ریشم پیدا کرنے والے خاص غدود (Silk Glands and Spinnerets) صرف مادہ مکڑی کے جسم میں مکمل طور پر فعال ہوتے ہیں۔ نر مکڑی جالا نہیں بنتا بلکہ وہ مادہ کے جالے کی طرف صرف تولید کے لیے آتا ہے۔ یہ باریک لغوی و سائنسی نکتہ چودہ سو سال قبل انسانی فہم سے بالا تر تھا۔
۲. طبعی استحکام بمقابلہ خاندانی کمزوری: «أَوْهَنَ الْبُيُوتِ»
سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ مکڑی کے جالے کا ایک باریک ریشہ اگر اسٹیل کے برابر موٹا کر دیا جائے تو اس کی لچک اور قوتِ برداشت اسٹیل کے تار سے پانچ گنا زیادہ ہوگی (Spider Silk Tensile Strength)۔ اس سائنسی انکشاف کے بعد بعض لوگوں نے سوال اٹھایا کہ قرآن نے پھر اسے «أَوْهَنَ الْبُيُوتِ» (سب سے کمزور گھر) کیوں کہا؟
جواب جدید رویہ جاتی بیالوجی (Behavioral Biology) نے دیا: قرآن نے ریشے کو کمزور نہیں کہا بلکہ «بَيْت» یعنی گھر اور خاندانی نظام کو کمزور کہا ہے۔ گھر کی تعریف یہ ہے کہ وہ گرمی، سردی اور دشمنوں سے پناہ دے اور وہاں امن اور محبت کا ماحول ہو۔ مگر مکڑی کا جالا:
- نہ بارش سے بچاتا ہے، نہ دھوپ سے اور نہ ہوا سے پناہ دیتا ہے۔
- اور خاندانی تعلقات اس قدر سفاک ہیں کہ ملاپ کے فوراً بعد مادہ مکڑی اکثر نر کو ہلاک کر کے کھا جاتی ہے (Sexual Cannibalism)۔
- اور انڈوں سے بچے نکلنے کے بعد جب خوراک کم ہوتی ہے تو بچے اپنی ہی ماں کو کھا جاتے ہیں (Matriphagy)۔
پس مکڑی کا گھر زمین پر موجود تمام مخلوقات میں اخلاقی اور پناہ گاہی لحاظ سے سب سے کمزور اور خطرناک ترین گھر ہے!
۳. سائنسی تقابل کا خلاصہ
| قرآنی کلام (۶۱۰ء) | جدید علم الحشرات کی دریافتیں |
|---|---|
| گھر بنانے والی مکڑی کے لیے مونث صیغہ لایا گیا («اتَّخَذَتْ»)۔ | جالا بننے والے فعال اسپنریٹس اور سلک گلینڈز مادہ مکڑی کی خصوصیت ہیں۔ |
| سب گھروں سے زیادہ کمزور گھر مکڑی کا ہے («أَوْهَنَ الْبُيُوتِ»)۔ | مکڑی کا خاندانی نظام امن اور پناہ سے خالی ہے؛ مادہ نر کو اور بچے ماں کو مار ڈالتے ہیں۔ |