۱. چیونٹیوں کا باہمی مواصلاتی نظام (Communication)
قرآنِ حکیم میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے واقعے میں چیونٹی کی ندا اور اعلان کا ذکر آتا ہے۔ مستشرقین اور معترضین نے طویل عرصے تک اس بات کو دیومالائی کہانی قرار دیا کہ ایک چیونٹی دوسری چیونٹیوں سے کس طرح بات کر سکتی ہے؟
بیسویں صدی میں ہارورڈ یونیورسٹی کے مشہور بیالوجسٹ ای او ولسن (E.O. Wilson) — جنہیں فادر آف بائیو ڈائیورسٹی کہا جاتا ہے — نے چیونٹیوں پر اپنی زندگی بھر کی ریسرچ شائع کی۔ انہوں نے دریافت کیا کہ چیونٹیوں کا مواصلاتی نظام دنیا کے پیچیدہ ترین سسٹمز میں سے ہے۔ وہ مختلف غدودوں سے خاص کیمیکلز (Pheromones) خارج کر کے وارننگ، راستے کی رہنمائی اور کالونی کے دفاع کا پورا پیغام کوڈ کرتی ہیں، نیز وہ اپنے جسم کی تہوں کو رگڑ کر صوتی لہریں (Acoustic Signals) بھی پیدا کرتی ہیں!
۲. لفظِ «لَا يَحْطِمَنَّكُمْ» کی سائنسی بلاغت
عربی زبان میں ہلاک کرنے کے لیے «قَتَلَ»، کچلنے کے لیے «دَعَسَ» یا «فَرَكَ» مستعمل ہیں۔ مگر قرآن نے چیونٹی کے الفاظ یوں نقل فرمائے: «لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَانُ وَجُنُودُهُ»۔ عربی لغت میں «حَطْم» کا لفظ صرف شیشے، مٹی کے برتن یا ایسی سخت چیز کو توڑنے اور کرچی کرچی کرنے کے لیے بولا جاتا ہے جو ٹوٹ کر بکھر جائے۔
بیسویں صدی میں الیکٹران مائیکروسکوپ سے جب چیونٹی کے جسم کا معائنہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ چیونٹی کے جسم میں ہمارے جیسے نرم پٹھے باہر نہیں ہوتے، بلکہ اس کا پورا بیرونی ڈھانچہ (Exoskeleton) ایک انتہائی سخت مادے "کائٹن” (Chitin) سے بنا ہوتا ہے۔ اس پر شیشے اور سلیکون کے کرسٹلز کی تہیں جمی ہوتی ہیں۔ جب چیونٹی پر پاؤں آتا ہے تو وہ کچلی نہیں جاتی بلکہ شیشے کے برتن کی طرح چٹخ کر ٹوٹ جاتی ہے! یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اعجاز کے ساتھ «لَا يَحْطِمَنَّكُمْ» (کہیں تمہیں توڑ نہ ڈالیں) کا لفظ استعمال فرمایا۔
۳. سائنسی تقابل کا خلاصہ
| قرآنی کلام (۶۱۰ء) | جدید اینٹامولوجی و بائیو میکینکس |
|---|---|
| چیونٹیوں کی باہمی آواز اور انتباہ کا نظام («قَالَتْ نَمْلَةٌ»)۔ | کیمیکل فیرومونز اور آڈیٹری سگنلز کے ذریعے کالونی کو منظم وارننگ دی جاتی ہے۔ |
| کچلنے کے لیے شیشہ ٹوٹنے کا لفظ لایا گیا («لَا يَحْطِمَنَّكُمْ»)۔ | چیونٹی کا کائٹن خول بائیو کرسٹلائن ڈھانچے کی وجہ سے ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوتا ہے۔ |