ارض و بحریات 🔬 علم موسمیات 📅 دریافت: 1580ء (برنارڈ پالیسی) و بیسویں صدی ⏱️ 6 منٹ مطالعہ

بارش، بادلوں کے اوزان اور آبی چکر — سورۃ الاعراف، سورۃ الروم اور ہائیڈرولوجیکل سائیکل

حوالۂ کلامِ الٰہی: سورۃ الاعراف: ۵۷، سورۃ الروم: ۴۸ و سورۃ الحجر: ۲۲ • توثیق و تحقیق: برنارڈ پالیسی (Bernard Palissy) اور جدید موسمیاتی ریڈار سسٹم

۱. قدیم خیالات بمقابلہ برنارڈ پالیسی کا آبی چکر

قدیم فلاسفہ بشمول ارسطو کا نظریہ تھا کہ زمین کے نیچے سمندر کا پانی پاتال میں چھپے خفیہ راستوں سے پہاڑوں کی چوٹیوں تک پہنچتا ہے اور پھر جھرنوں اور بارش کی صورت میں گرتا ہے۔ بارش اور بادلوں کے صحیح سائنسی چکر کو سب سے پہلے ۱۵۸۰ء میں فرانسیسی سائنسدان برنارڈ پالیسی (Bernard Palissy) نے پیش کیا کہ بادل سمندر کے بخارات بننے اور پھر کثیف ہونے سے بنتے ہیں۔

۲. بادلوں کے اوزان کا ناقابلِ یقین قرآنی انکشاف

انسان صدیوں تک یہ سمجھتا رہا کہ بادل دھویں یا روئی کی طرح ہلکے پھلکے ہوتے ہیں جن میں کوئی وزن نہیں ہوتا۔ لیکن قرآنِ مجید نے چودہ سو سال قبل سورۃ الاعراف میں فرمایا:

«حَتَّىٰ إِذَا أَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنَاهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ»
"یہاں تک کہ جب وہ ہوائیں بھاری بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں، تو ہم انہیں کسی مردہ علاقے کی طرف ہانک دیتے ہیں۔” (سورۃ الاعراف: ۵۷)

لفظ «ثِقَال» عربی میں بھاری اور وزنی چیز کو کہتے ہیں۔ جدید ایٹموسفیرک ریسرچ نے بادلوں میں پانی کے قطرات کی کثافت ناپ کر حساب لگایا ہے کہ ایک اوسط درجے کا کمولس بادل (Cumulus Cloud) جس کا رقبہ ایک کلومیٹر ہو، اپنے اندر تقریباً ۵ لاکھ کلوگرام (500 ٹن) پانی کا وزن اٹھائے ہوئے ہوتا ہے! اور ایک بڑا طوفانی بادل (Cumulonimbus) اپنے اندر ۳ لاکھ ٹن وزنی پانی کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوتا ہے — قرآن کا لفظ «ثِقَال» لفظی طور پر ایک ریاضیاتی معجزہ ہے۔

۳. ہواؤں کا بادلوں کو بارآور بنانا (Cloud Seeding / Pollination)

سورۃ الحجر میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

«وَأَرْسَلْنَا الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ فَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً»
"اور ہم نے ہواؤں کو بارآور کرنے والی (حاملہ کرنے والی) بنا کر بھیجا، پھر ہم نے آسمان سے پانی برسایا۔” (سورۃ الحجر: ۲۲)

سائنسدانوں نے بیسویں صدی میں دریافت کیا کہ جب تک ہوائیں سمندر سے نمک کے ذرات اور فضا سے مٹی کے ایٹم لا کر بادلوں کے اندر کنڈینسیشن نیوکلیائی (Condensation Nuclei) کے طور پر فراہم نہ کریں، اس وقت تک پانی کے بخارات مل کر بارش کا قطرہ بن ہی نہیں سکتے۔ ہوائیں لفظی طور پر بادلوں کو بارآور بناتی ہیں جیسا کہ قرآن نے «لَوَاقِح» فرمایا۔

۴. سائنسی تقابل کا خلاصہ

قرآنی کلام (۶۱۰ء) جدید میٹرولوجی کی پیمائشیں
بادلوں کو وزنی اور بھاری کہا گیا («سَحَابًا ثِقَالًا»)۔ ایک عام بادل کا وزن 500 ٹن ہوتا ہے جو فضا میں معلق رہتا ہے۔
ہوائیں بادلوں کو بارآور کرتی ہیں («الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ»)۔ ہواؤں کے لائے ہوئے ایروسول ذرات بادلوں کو قطرہ سازی کے لیے نیوکلیئس فراہم کرتے ہیں۔
🌌 تمام سائنسی معجزات و قرآنی نشانیاں دیکھیں ←
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
معجزاتِ الٰہی و اعجازِ قرآن • اردو کووریج دائرۃ المعارف

بارش، بادلوں کے اوزان اور آبی چکر — سورۃ الاعراف، سورۃ الروم اور ہائیڈرولوجیکل سائیکل

«وَهُوَ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا أَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنَاهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ ۝ اللَّهُ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهُ فِي السَّمَاءِ كَيْفَ يَشَاءُ وَيَجْعَلُهُ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ»
"اور وہی ہے جو اپنی رحمت (بارش) کے آگے آگے ہواؤں کو خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ بھاری بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں تو ہم انہیں کسی مردہ بستی کی طرف ہانک لے جاتے ہیں ۝ اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو چلاتا ہے تو وہ بادل کو ابھارتی ہیں، پھر وہ اس کو جس طرح چاہتا ہے آسمان میں پھیلا دیتا ہے اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے، پھر تو بارش کے قطرے دیکھتا ہے جو اس کے درمیان سے ٹپکتے ہیں۔"
— سورۃ الاعراف: ۵۷، سورۃ الروم: ۴۸ و سورۃ الحجر: ۲۲
خلاصۂ اعجاز و جدید سائنس:
قدیم تصور تھا کہ بادل روئی کے گالے ہیں جن میں کوئی وزن نہیں؛ قرآن نے انہیں «سَحَابًا ثِقَالًا» (بھاری بھرکم بادل) کہا، اور جدید فزکس نے ثابت کیا کہ ایک اوسط کمولس بادل کا وزن 5 لاکھ کلوگرام (500 ٹن) ہوتا ہے!
🔬 شعبہ: علم موسمیات 📅 سائنسی دریافت: 1580ء (برنارڈ پالیسی) و بیسویں صدی urducoverage.com/miracles