۱. اسلام میں عورت کے حقوق کا انقلابی منشور
اسلام سے قبل پوری دنیا میں عورت کو پاؤں کی جوتی اور مرد کی ملکیت سمجھا جاتا تھا۔ اسلام نے آ کر اعلان کیا کہ عورت نہ تو مرد سے کمتر ہے اور نہ ہی وہ کسی کے ظلم کا نشانہ بننے کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ نکاح کے بعد عورت کے جو حقوق شوہر پر لازم ہوتے ہیں وہ شریعت میں فرائض کا درجہ رکھتے ہیں۔
۲. بیوی کے بنیادی شرعی حقوق
- حقِ مہر (Mahr): مہر عورت کی قیمت نہیں بلکہ اس کے احترام اور محبت کا شرعی تحفہ ہے۔ یہ عورت کی خالص ذاتی ملکیت ہے جس میں اس کے والدین یا شوہر کا کوئی حق نہیں۔
- نان و نفقہ (خوراک، لباس، علاج): بیوی امیر ہو یا غریب، اس کے کھانے پینے، معقول لباس اور میڈیکل اخراجات کی مکمل کفالت شرعاً شوہر کے ذمے ہے، خواہ بیوی خود نوکری کرتی ہو یا اس کے پاس ذاتی دولت ہو، شوہر اس سے گھر کے خرچ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
- آزاد اور مناسب رہائش (Lodging): شوہر پر لازم ہے کہ وہ بیوی کو اپنی حیثیت کے مطابق ایسی رہائش فراہم کرے جس میں اس کا پردہ، سکون اور ذاتی رازداری محفوظ ہو۔ فقہائے اسلام کے مطابق اگر بیوی سسرال کے مشترکہ گھر میں گھٹن محسوس کرے تو شوہر پر اس کے لیے الگ کمرہ (مع غسل خانہ و کچن) دینا شرعی حق ہے۔
- حسنِ معاشرت اور باوقار سلوک: قرآن کا صریح حکم ہے: «وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ»۔ معروف کا مطلب ہے کہ بیوی کے ساتھ وہی رویہ رکھا جائے جو انسان اپنی بیٹی یا بہن کے لیے کسی دوسرے سے چاہتا ہے۔
۳. گھریلو تشدد اور بدزبانی کی قطعی حرمت
رسول اللہ ﷺ نے اپنی پوری حیاتِ طیبہ میں کبھی کسی عورت، خادم یا جانور پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا گواہی دیتی ہیں: «مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ شَيْئًا قَطُّ بِيَدِهِ، وَلَا امْرَأَةً، وَلَا خَادِمًا» (صحیح مسلم: ۲۳۲۸)۔
وہ مرد جو اپنی بیویوں پر ہاتھ اٹھاتے ہیں یا گالیاں بکتے ہیں، وہ سنتِ رسول ﷺ کے صریح نافرمان ہیں۔