حقوق الزوجین ⏱️ 7 منٹ مطالعہ 💍 سنتِ نبوی ﷺ و شرعی احکام

بیوی کے واجب حقوق: نان و نفقہ، عزت، مہر اور حسنِ سلوک کے شرعی ضوابط

قرآنی حوالہ: سورۃ النساء: ۱۹ و سورۃ الطلاق: ۶ • فرمانِ رسول ﷺ: صحیح مسلم: ۱۲۱۸ (خطبہ حجۃ الوداع)
🕊️ متعلقہ ازدواجی خاکہ و فیملی گائیڈ (تصویر کا گوشہ) یہاں جلد متعلقہ ازدواجی رہنما خاکہ شائع کیا جائے گا

۱. اسلام میں عورت کے حقوق کا انقلابی منشور

اسلام سے قبل پوری دنیا میں عورت کو پاؤں کی جوتی اور مرد کی ملکیت سمجھا جاتا تھا۔ اسلام نے آ کر اعلان کیا کہ عورت نہ تو مرد سے کمتر ہے اور نہ ہی وہ کسی کے ظلم کا نشانہ بننے کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ نکاح کے بعد عورت کے جو حقوق شوہر پر لازم ہوتے ہیں وہ شریعت میں فرائض کا درجہ رکھتے ہیں۔

۲. بیوی کے بنیادی شرعی حقوق

  1. حقِ مہر (Mahr): مہر عورت کی قیمت نہیں بلکہ اس کے احترام اور محبت کا شرعی تحفہ ہے۔ یہ عورت کی خالص ذاتی ملکیت ہے جس میں اس کے والدین یا شوہر کا کوئی حق نہیں۔
  2. نان و نفقہ (خوراک، لباس، علاج): بیوی امیر ہو یا غریب، اس کے کھانے پینے، معقول لباس اور میڈیکل اخراجات کی مکمل کفالت شرعاً شوہر کے ذمے ہے، خواہ بیوی خود نوکری کرتی ہو یا اس کے پاس ذاتی دولت ہو، شوہر اس سے گھر کے خرچ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
  3. آزاد اور مناسب رہائش (Lodging): شوہر پر لازم ہے کہ وہ بیوی کو اپنی حیثیت کے مطابق ایسی رہائش فراہم کرے جس میں اس کا پردہ، سکون اور ذاتی رازداری محفوظ ہو۔ فقہائے اسلام کے مطابق اگر بیوی سسرال کے مشترکہ گھر میں گھٹن محسوس کرے تو شوہر پر اس کے لیے الگ کمرہ (مع غسل خانہ و کچن) دینا شرعی حق ہے۔
  4. حسنِ معاشرت اور باوقار سلوک: قرآن کا صریح حکم ہے: «وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ»۔ معروف کا مطلب ہے کہ بیوی کے ساتھ وہی رویہ رکھا جائے جو انسان اپنی بیٹی یا بہن کے لیے کسی دوسرے سے چاہتا ہے۔

۳. گھریلو تشدد اور بدزبانی کی قطعی حرمت

رسول اللہ ﷺ نے اپنی پوری حیاتِ طیبہ میں کبھی کسی عورت، خادم یا جانور پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا گواہی دیتی ہیں: «مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ شَيْئًا قَطُّ بِيَدِهِ، وَلَا امْرَأَةً، وَلَا خَادِمًا» (صحیح مسلم: ۲۳۲۸)۔
وہ مرد جو اپنی بیویوں پر ہاتھ اٹھاتے ہیں یا گالیاں بکتے ہیں، وہ سنتِ رسول ﷺ کے صریح نافرمان ہیں۔

📋

عملی لائحۂ عمل اور سنہری احتیاطیں (Action Checklist)

  • ✔ اپنی استطاعت کے مطابق بیوی کے نان و نفقہ میں کشادگی رکھیں
  • ✔ گھریلو تشدد، گالی گلوچ اور تحقیر آمیز رویے سے قطعی پرہیز کریں
  • ✔ بیوی کی ذاتی رازداری اور مالی خود مختاری کا مکمل احترام کریں
اردو کوریج • اسلامی شادی و ازدواجی زندگی حقوق الزوجین

بیوی کے واجب حقوق: نان و نفقہ، عزت، مہر اور حسنِ سلوک کے شرعی ضوابط

«وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا ۝ أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ»

اور ان کے ساتھ بھلے انداز میں زندگی بسر کرو، اور اگر تم انہیں ناپسند کرو تو ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت سی بھلائی رکھ دے ۝ اور انہیں اپنی وسعت کے مطابق وہاں رکھو جہاں تم خود رہتے ہو اور انہیں تنگ کرنے کے لیے نقصان نہ پہنچاؤ۔

💡 زریں نچوڑ: بیوی شوہر کی ملازمہ نہیں بلکہ شریکِ حیات ہے۔ اس کا نان و نفقہ، علاج، رہائش اور باوقار زندگی فراہم کرنا شوہر کا دینی و قانونی فرض ہے۔
urducoverage.com/marriage رسول اللہ ﷺ کی مبارک سنت اور قرآنی سکینت
← پچھلا ازدواجی مضمون سنتِ نبوی ﷺ اور محبت بھرا ازدواجی رومانس: رسول اللہ ﷺ کا اپنی ازواج کے ساتھ سلوک اگلا ازدواجی مضمون → شوہر کے حقوق اور گھر کی سرپرستی کا اسلامی ماڈل: قوامیت کا اصل قرآنی مفہوم