۱. نبوی سیرت کا وہ درخشاں پہلو جسے بھلا دیا گیا
ہمارے مشرقی معاشرے میں شوہر کے لیے رعب، سختی، اور بے اعتنائی کو مردانگی کی علامت سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ سید الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ مطہرہ کا سب سے دلکش اور سحر انگیز باب آپ ﷺ کی گھریلو اور ازدواجی زندگی ہے۔ آپ ﷺ کائنات کے سب سے مصروف ترین انسان، سربراہِ ریاست، سپہ سالار، اور معلمِ انسانیت ہونے کے باوجود اپنے گھر میں سب سے زیادہ نرم دل، ہنس مکھ اور رفیق شوہر تھے۔
۲. محبت کا کھلم کھلا اور فخریہ اظہار
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے ایک بار رسول اللہ ﷺ سے سب کے سامنے استفسار کیا: "یا رسول اللہ! آپ کو تمام انسانوں میں سب سے زیادہ کس سے محبت ہے؟”
آپ ﷺ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ یا تکلف کے بلا تامل ارشاد فرمایا: «عَائِشَةُ» (عائشہ سے)!
عرض کیا: "مردوں میں؟” فرمایا: «أَبُوهَا» (ان کے والد ابو بکر سے)! (صحیح بخاری: ۳۶۶۲)
یہ حدیث اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ شریکِ حیات سے محبت کا برملا اظہار کرنا کوئی عیب کی بات نہیں بلکہ کمالِ اخلاق کی علامت ہے۔
۳. نبوی رومانس کے دلکش مظاہر
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے ساتھ ایسا پرلطف اور محبت بھرا برتاؤ فرماتے تھے جس کی نظیر نہیں ملتی:
- ایک ہی برتن سے پینا: سیدہ عائشہ فرماتی ہیں: "میں پانی پی کر پیالہ رسول اللہ ﷺ کو دیتی، تو آپ ﷺ ڈھونڈ کر اپنا مبارک منہ بالکل اسی جگہ رکھتے جہاں سے میں نے گھونٹ بھرا ہوتا تھا۔” (صحیح مسلم: ۳۰۰)
- کھانے کا لقمہ کھلانا: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «اور تم جو لقمہ بھی اپنی بیوی کے منہ میں دیتے ہو وہ تمہارے حق میں صدقہ اور ثواب بن جاتا ہے۔» (صحیح بخاری: ۵۶)
- دوڑ لگانا اور تفریح: آپ ﷺ نے سفر کے دوران سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دوڑ لگائی۔ پہلی بار سیدہ عائشہ آگے نکل گئیں، چند سال بعد جب ان کا جسم کچھ بھاری ہو گیا تو دوبارہ دوڑ میں رسول اللہ ﷺ آگے نکل گئے اور مسکرا کر فرمایا: «يَا عَائِشَةُ، هَذِهِ بِتِلْكَ» (عائشہ! یہ اس دن کا بدلہ ہو گیا)! (سنن ابی داؤد: ۲۵۷۸)
- پیار بھرے القاب سے پکارنا: آپ ﷺ سیدہ عائشہ کو پیار سے "عائش” کہہ کر پکارتے اور کبھی سرخ و سفید رنگت کی مناسبت سے "یا حمیراء” (اے سرخ گالوں والی) کے دلکش نام سے بلاتے۔
۴. گھریلو کاموں میں ہاتھ بٹانا
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ نبی کریم ﷺ گھر میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: «كَانَ يَكُونُ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ» (آپ اپنے گھر والوں کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتے تھے)، اپنا جوتا خود گانٹھ لیتے، کپڑوں کو پیوند لگا لیتے اور بکری کا دودھ دوہ لیتے۔ پھر جب اذان ہوتی تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔ (صحیح بخاری: ۶۷۶)