۱. «قوام» کا درست مفہوم بمقابلہ غلط فہمیاں
مغرب کے فکری اعتراضات اور ہمارے مشرقی معاشرے کے جاگیردارانہ رویوں نے سورۃ النساء کی آیت ۳۴ میں مذکور لفظ «قَوَّامُونَ» کو شدید مسخ کیا ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ مرد گھر کا تانا شاہ یا ڈکٹیٹر ہے جس کے سامنے عورت بے زبان غلام ہے۔
عربی لغت میں "قوام” اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی ادارے، کشتی یا فوج کے تمام نظام کی دیکھ بھال، اس کی حفاظت اور اس کی ضروریات پوری کرنے کا ذمہ دار ہو۔ جیسے ایک ہسپتال میں چیف میڈیکل آفیسر یا ملک میں وزیراعظم ہوتا ہے، اسی طرح اللہ نے گھر کے نظام کو انارکی اور انتشار سے بچانے کے لیے مرد کو کفیل اور نگران (قوام) کا انتظامی منصب سونپا ہے۔
۲. شوہر کے بنیادی شرعی حقوق
- اطاعت بمعروف: شریعت کے مطابق شوہر کے جائز اور نیک کاموں میں اس کی بات ماننا اور گھر کے نظم کو برقرار رکھنا۔ اگر شوہر اللہ کی نافرمانی یا کسی گناہ کا حکم دے تو اس میں کوئی اطاعت نہیں۔
- عزت و ناموس اور گھر کی حفاظت: شوہر کی عدم موجودگی میں اس کے گھر کی رازداری، بچوں کی دیکھ بھال اور شوہر کے مال میں خیانت نہ کرنا۔
- شکر گزاری اور احسان شناسی: شوہر دن بھر دھوپ، گرمی، محنت اور مشقت کر کے حلال رزق کما کر لاتا ہے۔ اس کی اس محنت کی قدردانی کرنا گھر میں محبت کی روح ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کے لیے وعید فرمائی جو شوہر کے احسانات کی ناشکری کرتی ہے۔