۱. شریکِ حیات کے انتخاب کی حساسیت
شادی صرف دو انسانوں کے ملنے کا نام نہیں ہے بلکہ دو خاندانوں کے باہمی اتحاد، آئندہ نسلوں کی فکری و دینی آبیاری، اور تاحیات نبھانے والے ایک پختہ عہد (میثاقاً غلیظاً) کا آغاز ہے۔ اسی لیے شریعتِ مطہرہ نے رشتہ طے کرنے کے معاملے میں عجلت، سطحی جذباتی فیصلوں اور محض دنیاوی طمع کی سخت حوصلہ شکنی کی ہے۔
۲. نبوی پیمانہ: چار اوصاف اور دینداری کی بالادستی
صحیح بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث میں نبی کریم ﷺ نے انسانی نفسیات اور ترجیحات کا احاطہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ عام طور پر لوگ چار باتوں کو دیکھ کر نکاح کرتے ہیں:
- ۱. مال و دولت: مال کی فراوانی عارضی ہے، معاشی حالات پلک جھپکتے میں بدل سکتے ہیں۔
- ۲. حسب و نسب: شاندار خاندان اور شجرۂ نسب ضروری نہیں کہ فرد کے ذاتی اخلاق کا ضامن ہو۔
- ۳. حسن و جمال: جسمانی خوبصورتی چند سالوں کی مہمان ہے، بیماری یا عمر کی ڈھلان کے ساتھ حسن ڈھل جاتا ہے۔
- ۴. دینداری و سیرت: یہ وہ بنیادی ستون ہے جو کبھی کمزور نہیں ہوتا۔ دیندار شریکِ حیات خوشی میں شکر ادا کرتا ہے اور تنگی میں صبر، وہ غصے میں ظلم نہیں کرتا اور خوشی میں سرکشی نہیں دکھاتا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «پس تم دینداری والی کو ترجیح دو تاکہ تمہارے دونوں ہاتھ خیر و برکت سے بھر جائیں۔»
۳. لڑکی کی رضامندی اور زبردستی کے نکاح کی حرمت
اسلام دنیا کا وہ پہلا دین ہے جس نے نکاح کے لیے لڑکی کی صریح اور آزادانہ رضامندی کو ناگزیر شرط قرار دیا۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ حضرت خنساء بنت خذام انصاریہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ان کے والد نے ان کی مرضی کے بغیر کر دیا تو وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اور آپ ﷺ نے اس جبری نکاح کو یکسر کالعدم (باطل) قرار دے دیا۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: «کنواری عورت کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے اور بیوہ کا نکاح اس کے صریح حکم کے بغیر نہ کیا جائے۔» (صحیح بخاری: ۵۱۳۶)
۴. استخارہ اور استشارہ (صحیح مسنون طریقہ)
معاشرے میں استخارہ کے بارے میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ رات کو خواب میں سبز یا سفید رنگ نظر آئے گا یا کوئی بشارت ملے گی۔ سنتِ نبوی میں استخارے کا مفہوم یہ ہے کہ انسان مکمل چھان بین، تحقیق اور تجربہ کار لوگوں سے مشورے (استشارہ) کے بعد دو رکعت نفل پڑھے اور دعائے استخارہ کے ذریعے معاملہ اللہ کے سپرد کر دے کہ یا اللہ اگر یہ رشتہ میرے دین اور دنیا کے لیے بہتر ہے تو اس کے اسباب آسان فرما دے، ورنہ اس معاملے کو مجھ سے دور کر دے۔