جب گھر میں شادی، مکان کی خریداری یا بچوں کے رشتوں کے فیصلے بوڑھے والدین کو بتائے بغیر ہونے لگتے ہیں، تو ان کے دل پر کیا گزرتی ہے؟ جانیے بزرگوں کے وقار اور خودداری کی حفاظت کیوں لازمی ہے۔
احساسِ حقارت اور بے توقیری کا درد
جس باپ نے خون پسینہ بہا کر خاندان کو اس مقام تک پہنچایا اور جس ماں نے اپنی جوانی اولاد کی پرورش میں گھلا دی، جب بڑھاپے میں ان سے یہ کہا جائے کہ 'آپ رہنے دیں، آپ کو ان نئے معاملات کی کیا سمجھ؟' تو یہ جملہ خنجر کی طرح ان کی روح کو زخمی کر دیتا ہے۔
نظر انداز کیے جانے کے جسمانی اور دماغی نقصانات
تحقیق سے ثابت ہے کہ جب بزرگ خود کو غیر اہم اور بوجھ سمجھنے لگتے ہیں:
- ان کے دماغ میں ڈیمنشیا اور الزائمر کے خلیات تیزی سے بڑھتے ہیں۔
- دل کی بیماریوں اور بلڈ پریشر میں خطرناک اضافہ ہو جاتا ہے۔
- وہ خوراک اور دوائیں چھوڑ کر خاموشی سے موت کی تمنا کرنے لگتے ہیں۔
فیصلوں میں بزرگوں کی شمولیت کے باوقار طریقے
اولاد کو چاہیے کہ وہ درج ذیل خاندانی کلچر کو رواج دے:
- کسی بھی اہم فیصلے کا حتمی اعلان کرنے سے پہلے والد اور والدہ کے پاس بیٹھ کر رائے مانگیں۔
- اگر ان کی رائے میں کوئی عملی دشواری ہو، تب بھی ان کی بات کاٹ کر رد نہ کریں بلکہ ادب سے عرض کریں۔
- رشتہ داروں اور مہمانوں کی موجودگی میں بزرگوں کو گفتگو کی صدارت سونپیں۔
- مالی معاملات میں ان کی عزتِ نفس کا خیال رکھیں اور انہیں جیب خرچ مانگنے پر مجبور نہ کریں بلکہ پہلے سے ان کے پاس رکھیں۔
قرآنی حکم اور والدین کا ادب
قرآن کریم کا صاف حکم ہے: 'اگر ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو بلکہ ان سے ادب کے ساتھ گفتگو کرو'۔ والدین کا احترام اللہ کی رضا کا ضامن ہے۔
