ہم سب بچپن سے پڑھتے آئے ہیں کہ جانور پودوں کو کھاتے ہیں، لیکن کیا آپ نے کبھی ایسے پودے کے بارے میں سنا ہے جو جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کا شکار کر کے انہیں کھا جاتا ہے؟ وینس فلائی ٹریپ (Venus Flytrap) علمِ نباتات کا وہ حیرت انگیز معجزہ ہے جس نے چارلس ڈارون کو بھی دنگ کر دیا تھا اور اس نے اسے "دنیا کا سب سے شاندار پودا" قرار دیا تھا۔
شکار کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
یہ پودا جن دلدلی علاقوں میں اگتا ہے وہاں کی مٹی میں نائٹروجن اور دیگر معدنیات بالکل ناپید ہوتی ہیں۔ اس لیے اپنی بقاء کی خاطر اس نے اپنے پتوں کو شکاری جبڑوں میں تبدیل کر لیا تاکہ وہ کیڑوں کو ہضم کر کے ضروری غذائیت حاصل کر سکے۔
قدرتی سمارٹ الیکٹرانک جال
اس کے ہر پھندے کے اندر سرخ رنگ کی دلکش چمک اور میٹھا مادہ ہوتا ہے جس کے اندر 6 انتہائی باریک بال (Trigger Hairs) لگے ہوتے ہیں:
- پہلا لمس: جب کوئی مکھی پھندے پر بیٹھ کر پہلے بال کو چھوتی ہے تو پودا چوکس ہو جاتا ہے مگر بند نہیں ہوتا۔
- دوسرا لمس: اگر 20 سیکنڈ کے اندر مکھی حرکت کر کے دوسرے بال کو چھوئے تو پودے میں الیکٹرک سگنل دوڑتا ہے اور پھندا 0.1 سیکنڈ میں دھماکے سے بند ہو جاتا ہے۔
- تیسرا مرحلہ: پھندے کے کنارے دانتوں کی طرح ایک دوسرے میں پھنس جاتے ہیں اور مکھی قید ہو جاتی ہے۔
"جب شکار مکمل ہضم ہو جاتا ہے تو 10 سے 12 دن بعد پھندا دوبارہ کھل جاتا ہے اور کیڑے کا صرف بیرونی ڈھانچہ ہوا میں اڑ جاتا ہے، اور پھندا اگلے شکار کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔"